Home » » علماء دیوبند اور حسام الحرمین

علماء دیوبند اور حسام الحرمین


علماء دیوبند اور حسام الحرمین
اس کتاب میں احمد رضا خاں بریلوی کی کتاب حسام الحرمین کا مکمل جواب دیا گیا ہے اور علمائے حرمین سے جعل و تلبیس کے ذریعہ حاصل کردہ فتوئے کی حقیقت اور علمائے دیوبند کا اصل مسلک ظاہر کیا گیا ہے۔
مسئلہ حیات النبی صلی اﷲ علیہ وسلم
کیا فرماتے ہو جناب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی قبر میں حیات کے متعلق کہ کوئی خاص حیات آپ کو حاصل ہے یا عام مسلمانوں کی طرح بزرخی حیات ہے۔
جواب
ہمارے نزديک اور ہمارے مشائخ کے نزديک حضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اپنی قبر میں مبارک میں زندہ ہیں آپ کی حیات دنیا کی سی ہے بلک مکلف ہونے کے اور يہ حیات مخصوص ہے آنحضرت اور تمام انبیا ءعلیہم السلام اور شہدا کے ساتھ برزخی نہیں ہے۔جو حاصل تمام مسلمانوں بلکہ سب آدمیوں کو چنانچہ علامہ سیوطی نے اپنے رسالہ انبیاء الاذکیا ءبحیوة الانبیاء میں تبصريح لکھا ہے فرماتے ہیں کہ علامہ تقی سبکی نے فرمایا ہے کہ انبیاء وشہدا کی قبر میں حیات ایسی ہے جیسی دنیا میں تھی اور موسی علیہ السلام کا اپنی قبر نماز پڑھنا اسکی دلیل ہے کیونکہ نمازہ جسم کو چاہتی ہے۔ الخ ص221
آپ کے مسائل اور ان کا حل
جلد دہم
شہید اسلام مولانا محمد یوسف لدھیانوی
مسئلہ حیات النبی ﷺ کے متعلق دور حاضر کے
اکابر دیوبند کا مسلک اور ان کا متفقہ اعلان
”حضرت اقدس نبی کریم ﷺ اور سب انبیا کرام علیہم الصلوة والسلام کے بارے میں اکابر دیوبند کا مسلک يہ ہے کہ وفات کے بعد اپنی قبروں میں زندہ ہیں۔ اور ان کے ابدان مقدسہ بعینہا محفوظ ہیں۔ اور جسد عنصری کے ساتھ عالم برزخ میں ان کو حیات حاصل ہے۔ اور حیات دنیوی کے مماثل ہے۔
صرف يہ ہے کہ احکام شرعیہ کے وہ مکلف نہیں ہیں۔ لیکن وہ نماز بھی پڑھتے ہیں اور يہیں جمہور محدثین اور متکلمین اہل سنت والجماعت کا مسلک ہے، اکابر علماء دیوبند کا مختلف رسائل میں يہ تصریحات موجود ہیں۔ حضرت مولانا قاسم نانوتوی کی تو مستقل تصنیف حیات انبیاء پر”آب حیات“ کے نام سے موجود ہے۔ حضرت مولانا خلیل احمد صاحب جو حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی کہ ارشد خلفاء میں سے ہیں ان کا رسالہ ”المہند علی المفند“ بھی اہل انصاف اور اہل بصیرت کےلئے کافی ہے۔ اب جو اس مسلک کے خلاف دعوی کر ے اتنی بات یقینی ہے کہ انکا اکابر علما دیوبند کے مسلک سے کوئی واسطہ نہیں۔ ص513

شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی ؒ
کی منتخب فقہی تحریرات ومکاتیب کا مستند مجموعہ
فتوی شیخ الاسلام
ترتیب
مولانا مفتی محمد سلمان منصورپوری
سوال
مدینہ منورہ کی حاضری میں زائر کی کیا نیت ہونی چاہيے؟حافظ ابن تیمیہ کہتے ہیں کہ محض مسجد شریف کی زیارت کا راداہ محرک ہو۔نیزاس ضمن میں يہ بھی معلوم ہوجائے کہ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی حیات شہدا کی مانند محض روحانی ہے یا آپ جسم اقدس کے ساتھ زندہ بھی ہیں؟
جواب
حافظ ابن تیمیہ کا مسلک حضوری مدینہ کے بارے میں مرجوع بلکہ غلط ہے۔ مدینہ منورہ کی حاضری محض جناب سرور کائنات علیہ الصلوة السلام کی زیارت اورآپ کے توسل کی غرض سے ہونی چاہيے آپ کی حیات نہ صرف روحانی ہے جو کہ عام مومنین وشہداء کو حاصل ہے بلکہ جسمانی بھی ہے اور ازقبیل حیات دینوی بلکہ بہت سی وجوہ سے اس سے قوی تر ہے۔ ص64

کفار،مشرکین، شیعہ،بدعتی، غیرمقلدین،مغرب زدہ مسلمانوں اور جاہل طبقے کے
اسلام پر اعتراضات،و شبہات پر عقلی ونقلی جامع اور دلچسپ جواباب
اشرف الجواب
حکیم الامت مجدد ملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی قدس سرہ
75۔ حضرات انبیاء علیہ السلام و اولیائے کرام کی حیات برزخیہ کا اثبات!
حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی قبر مبارک کے ليے بہت کچھ شرف حاصل ہے‘ کیونکہ جسد اطہر اس کے اندر موجود ہے‘ بلکہ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم خود‘ جسد مع تلبس الروح اس کے اندر تشریف رکھتے ہیں‘ کیونکہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی قبر میں زندہ ہیں‘ قریب قریب تمام اہل حق اس پر متفق ہیں‘صحابہ رضی اﷲعنہم کا بھی يہی اعتقاد ہے‘ حدیث میں بھی نص ہے۔ ان نبی اﷲ حی فی قبرہ یرزق۔(اﷲ کے نبی اپنی قبر میں بلاشبہ زندہ ہیں‘رزق پاتے ہیں) کہ آپ اپنی قبرہ شریف میں زندہ ہے اور آ پ کو رزق پہنچتا ہے‘مگر یاد رہے کہ اس حیات سے مراد ناسوتی نہیں ہے‘ دوسری قسم کی حیات ہے‘جس کو حیات برزخیہ کہتے ہیں۔ ص288-289

کفایت المفتی
مفتی اعظم حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اﷲ دھلوی رحمہ اﷲ
جلداول
کتاب الایمان والکفر کتاب العقائد
ہاں اس خیال اور اعتقاد سے ندا کرنا کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی روح مبارک مجلس مولود میں آتی ہے۔ اس کا شریعت مقدسہ میں کوئی ثبوت نہیں اور کئی وجہ سے یہ خیال باطل ہے۔ اول يہ کہ حضرت رسالت پناہ صلی اﷲ علیہ وسلم قبر مبارک میں زندہ ہیں جیسا کہ اہل سنت والجماعت کا مذہب ہے۔ ص169

تالیفات رشیدیہ
مع
فتاوی رشیدیہ
فقیہ العصر قطب الارشاد امام ربانی حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اﷲ
کے فتاوی ،رسائل اور تصانیف کا مجموعہ
جواب: اس مسئلہ کی پہلے تحریرات ہر چکی ہیں کہ ماتہ مسائلکہ اور اربعین مسائل مولانا محمد اسحاق مرحوم دہلوی کو ديکھئے چونکہ اب بندہ سے سوال کیا گیا ہے تو جواب مختصر لکھنا ضرور ہوا۔ استعانت کے تین معنی ہیں ايک يہ کہ حق تعالی سے دعا کرے کہ بحرمت فلاں میرا کام کر دے يہ باتفاق جائز ہے خواہ عند القبر ہو یاخواہ دوسری جگہ اس میں کسی کو کلام نہیں ۔دوسرے يہ کہ صاحب قبر سے کہے کہ تم میرا کام کر دو يہ شرک ہے خواہ قبر کے پاس کہے خواہ قبر سے دور کہے اور بعض روایات میں جو آیا ہے۔ اعینونی عباد اﷲ تو وہ فی الواقع کسی میت سے استعانت نہیں بلکہ عباداﷲ جو صحرا میں مجود ہوتے ہیں ان سے طلب اعانت ہے کہ حق تعالی نے ان کو اسی کام کے واسطے وہاں مقرر کیا ہے تو وہ اس باب سے نہیں ہے اس سے حجت جواز پر لانا جہل ہے معنی حدیث سے۔ تیسرے يہ کہ قبر کے پاس جا کہ يہ کہے کہ اے فلاں تم میرے واسطے دعا کرو کہ حق تعالی میراکام کر دے اس میں اختلاف علماء کاہے۔ مجوز سماع موتی اس کے جواز کے مقر ہیں اور مانعین سماع منع کرتے ہیں سو اس کا فیصلہ اب کرنا محال ہے” مگر انبیاءعلیہم السلام کے سماع میں کسی کو خلاف نہیں“ اسی وجہ سے ان کو مشتنی کیا ہے۔ اور دلیل جواز يہ ہے کہ فقہاء نے بعد سلام کے وقت زیارت قبر مبارک کے شفاعت مغفرت کا عرض کرنا لکھا ہے۔ الخ ص134

در اثبات حیات بابرکات سرور کائنات علیہ الصلوة التحیات
حجتہ الاسلام ایة من آیات اﷲ
حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی نور اﷲ مرقدہ المتوفی1297ِھ
بعد حمد وصلوة کے بند ہيچمدان کمتر ین خلائق محمد قاسم عفی عنہ وعن والدیہ وعن جمیع المسلمین جس کی ہیچمدانی پر اس کی پریشانی و بے سرور سامانی اور اس کے کمترین خلائق ہونے پر اس کی ناشائستگی اور نادانی گواہ ہے قدرشناسان کلام ربانی جن کو بیان نکات آیات سے ترقی ایمان اور محبان نبی کی خدمت میں جن کو شرح کمالات محمدی سے شادمانی ہو عرض پرداز ہے چندسال گذرے کہ حسب ایمائے بعض بزرگان واجب الاطاعت شیعوں کے جواب لکھتا تھا اثناءتحریر جواب طعن فدک میں منجانب اﷲ یوں خیال میں گذار کہ اگر حکم میراث رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو بھی اور حدیث لانورث ما ترکنا صدقة کو موضوع اور غلط کہا جائے تويہ دعوئے حیات النبی صلی اﷲ علیہ وسلم کا جو زبان زد خاص وعام اہل اسلام ہے خود بخود باطل ہو جائے گا اور اس دعوی کا منقوض ہونا منکروں کے کام آئے گا۔
الغرض آپ کی حیات مذکور کی مصدق اور حدیث مذکور دعوی حیات کی موید نظر آئی۔ اور اس وجہ سے علماء اہل السنة کی حقانیت اور خوش فہمی کا یقین ہوا مگر بوقت تحریر مذکور اتنے ہی لکھنے کا اتفاق ہوا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ہنوز قبر میں زندہ ہیں اور مثل گوشہ نشینوں اور چلہ کشو کے عزلت گزین ہیں جیسے ان کا مال قابل اجرائے حکم میراث ہیں ہوتا ایسے ہی آپ کا مال بھی محل توریث نہیں الخ

سیرت المصطفےٰ
جلد دوم
ا ستاذ مولانا محمد ادریس کاندھلوی
حیات النبی صلی اﷲ علیہ وسلم
تمام اہل سنت والجماعت کا اجماعی عقیدہ ہے کہ حضرات انبیاءکرام علہیم الصلوة والسلام وفات کے بعد اپنی قبروں میں زندہ ہیں اور نماز عبادت میں مشغول ہیں اور حضرات انبیاءکرام کی يہ بزرخی حیات اگرچہ ہم کو محسوس نہیں ہوتی لیکن بلاشبہ يہ حیات حسی اور جسمانی ہے‘ اس لئے کہ روحانی اور معنوی حیات تو عامہ مومنین بلکہ ارواح کفار کو بھی حاصل ہے۔ ص360

احادیث نبوی کا ايک جدید اور جامع انتخاب
اور ترجمہ اور تشریحات کے ساتھ
معارف الحدیث
جلد پنجم‘ ششم‘ وہفتم
مولانا محمد منظورنعمانی
308۔ عن ابی ہریرة قال قال رسول اﷲ علیہ وسلم ما من احد یسلم علی الا رداﷲ علی روحی حتی ارد علیہ السلام۔ ( رواہ ابو داد و البیہقی فی الدعوات الکبیر)
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ :جب کوئی مجھ پر سلام بھيجے گا تو اﷲ تعالی میری روح مجھ پر واپس فرمائے گا تا کہ میں اس کے سلام کا جواب دیدوں۔
تشریح:
حد یث کے ظاہری الفاظ ” الارد اﷲ علی روحی“ سے يہ شبہ ہو سکتا ہے کہ آپ کی روح مبارک جسد اطہر سے الگ رہتی ہے جب کوئی سلام عرض کرتا ہے تو اﷲ تعالیٰ آپ ﷺ کے جسد اطہر میں روح مبارک کو لوٹا دیتا ہے تا کہ آپ سلام کا جواب دے سکیں۔ ظاہر ہے کہ يہ با ت کسی طرح صحيح نہیں ہو سکتی‘ اگر اس کو تسلیم کر لیا جائے تو ماننا پڑے گا کہ ايک دن لاکھوں کڑوروں دفعہ آپ ﷺ کی روح مبارک جسم اقدس میں ڈالی اور نکالی جاتی ہے کیونکہ کوئی دن ایسا نہیں ہوتا کہ آپ کے لاکھوں کروڑوں امتی آپ ﷺ پر صلوة وسلام نہ بھجتے ہوں۔ روضہ اقدس پرحاضر ہو کر سلام عرض کرنے والوں کا بھی ہر وقت تانتا بندھا رہتا ہے‘ اور عام دنوں میں بھی ان کا شمار ہزاروں سے کم نہیں ہوتا۔ علاوہ ازیں انبیاءعلیہم السلام کا اپنی قبور میں زندہ ہونا ايک مسلم حقیقت ہے۔اگرچہ اس حیات کی نوعیت کے بارے میں علماءامت کی رائیں مختلف ہیں لیکن اتنی بات سب کے نزدک مسلم اور دلائل شرعیہ سے ثابت ہے کہ انبیاے علیہم السلام اور خاص کر سید الانبیاءﷺ کو اپنی قبور میں حیات حاصل ہے اس لئے حدیث کا يہ مطلب کسی طرح نہیں ہو سکتا ہے کہ آپ ﷺ کا جسد اطہرروح سے خالی رہتا ہے اور جب کوئی سلام عرض کرتا ہے تواﷲ تعالی جواب دلوانے کےلئے اس روح ڈال دیتا ہے۔ اس بناء پر اکثر شارحین نے ” رد روح“ کا مطلب يہ بیان کیا ہے کہ قبرمبارک میں آپ ﷺ کی روح پاک کی تمام تو توجہ دوسرے عالم کی طرف اور اﷲ تعالیٰ کی جمالی و جلالی تجلیات کے مشاہد ہ میں مصروف رہتی ہے الخ

فتاوی عثمانی
جلد اول
حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم
عقیدہ حیات النبی صلی اﷲ علیہ وسلم
سوال:
محترم مولانا محمد تقی عثمانی صاحب
السلام علیکم ورحمتہ اﷲ وبرکاتہ
میں نے ايک خط آنجناب کو ارسال کیا تھا لیکن جواب سے محروم رہا، اس خط میں يہ مذکور تھا کہ قرآن کے مطالعے سے مجھے ایسا محسوس ہوا کہ مسلمان عام طور سے دینی معاملات احکام قرا ن کے خلاف عمل کررہے ہیں، ایسا کیوں ہے؟يہ میں سمجھ نہیں سکا۔
قران میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ ہر شخص موت آتی ہے اور پھر وہ قیامت کے دن اٹھایا جائے گا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ وفات رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کے موقع پر اچھی طرح اس کی وضاحت کر دی تھی۔ لیکن عام مسلمان حیات النبی صلی اﷲ علیہ وسلم اور حیات اولیاء کے قائل ہیں اور ان کے تصرفات کے عجیب وغریب واقعات بیان کرتے رہتے ہیں۔
جواب:
مکرمی و محتر می، السلام علیکم وحمتہ اﷲ وبرکاتہ
آپ کا پہلا خط مجھے ملنایاد نہیں،بہر کیف! آپ کے سوال کا جواب عرض ذيل ہے
انبیاءکرام علیہم السلام سمیت تمام مخلوقات کو موت کے بعد ہر انسان کو برزخی زندگی سے واسطہ پڑتا ہے۔ برزخی زندگی کا مطلب صرف يہ ہے کہ انسان کی روح کا اس کے جسم سے کسی قدر تعلق رہتا ہے۔ يہ تعلق عام انسانوں میں بھی ہوتا ہے مگر اتنا کم کہ اس کے اثرات محسوس نہیں ہوتے۔ شہدا کی ارواح کا تلعق ان کے جسم سے عام انسانوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے اسلئے قران کریم نے انہیں احیاء قرار دیا ہے،(ولاتقولوا لمن یقتل فی سبیل اﷲ اموات بل احیاءولکن لا تشعرون۔ بقرہ154) اور انبیا کرام کا درجہ شہدا سے بھی بلند ہے اس لئے احادیث کے مطابق ان کی ارواح کا تعلق جسم سے سب سے زیادہ ہوتاہے، يہاں تک کہ میراث بھی تقسیم نہیں ہوتی اور ان کے ازواج کا نکاح بھی دوسرا نہیں ہوسکتا، جیسا کہ قران کریم میں ہے۔(ولا ان تنکحو ازوجة من بعدہ ابدا۔ الاحزاب ۔53)چونکہ ان کی ارواح کا تعلق سب سے زیادہ ہوتاہے، اس لئے شہدا کی طرح انہیں بھی احیاء قرار دیا گیا ہے، مگر یہ حیات اس طرح کی نہیں ہے جیسی انہیں موت سے پہلے حاصل تھی، نیز قرآن وسنت میں اس کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ اس حالت میں انبیائے کرام علیہم السلام کو دوسروں پر تصرف کا کوئی اختیار حاصل ہے، اگر کسی نے کبھی اس قسم کو کوئی واقعہ ديکھا ہوتو وہ اﷲ تعالی کی طرف سے ان کی صورت مثالی ہو سکتی ہے جس کا ان کو علم ہونابھی ضروری نہیں ہے۔ ص70
واﷲ اعلم
4-8-1422ھ
فتوی نمبر505/10
مدارج النبوت
اول
مصنف:حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی
مترجم: مولانا محمد منشا تابس قصوری
حیات النبی صلی اﷲ علیہ وسلم
سید عالم صلی اﷲ علیہ وسلم کے جسد اطہر کو زمین کہ نہ کھانے سے ظاہری مطلب يہ ہے کہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم عالم برزخ میں حیات ظاہری کی طرح زندہ و پائندہ ہیں۔ اور اس حيات میں نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم اور دیگر انبیاء ومرسلین علیہم السلام مختص ہیں۔
روضہ انور میں باجماعت نماز
آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے خصائص عظیمہ میں يہ بھی ہے کہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم اپنی قبرانور میں زندہ ہیں۔جیسے تمام انبیاء ومرسلین اور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم اپنے مزار اقدس کے اندر اذان واقامت کے ساتھ نماز ادا فرماتے ہیں۔ ص279

فتاوی مفتی محمود
جلد اول
فقیہ ملت مفکر اسلام مولانا مفتی محمد محمود رحمہ اﷲ علیہ
کیا حضور صلی اﷲ علیہ وسلم درود سن سکتے ہیں؟
کیا فرماتے ہیں علمائے اہل سنت والجماعت مندرجہ ذیل مسائل کے بارے میں قرآن مجید اور احادیث کا حوالہ ضرور دیا جائے۔
5۔ کیا نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم حیات ہیں یا نہیں؟
جواب
نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم اور تمام انبیاءکرام علیہم السلام اپنی قبور مطہرہ میں حیات ہی حدیث معتبر سے ثابت ہے علامہ سیوطی نے شرح الصدور فی احوال الموتی والقبور میں اس قسم کی احادیث بہت نقل کی ہیں۔ ص280
فتاوی رحیمیہ
جلد ہفتم
حضرت مولانا حافظ قاری مفتی سید عبد الرحیم صاحب لاجپوری
انبیاءعلیہم السلام کی ہڈیوں کے متعلق
سوال(2060)
ايک رسالہ میں امام حسن خالص عسکری کے حالات میں لکھا ہے کہ جب سر من رای میں قحط پڑا تو خلیفہ وقت کے حکم کے مطابق بارش کی دعاءکی گئی پھر بھی بارش نہ برسی، لیکن ايک نصرانی راہب نے اس کے بعد دعا کی تو بارش ہو ئی کیونکہ اس کے ہاتھ میں کسی مدفون نبی کی ہڈی تھی اس لئے شبہ پیدا ہوا کہ کیا واقعة نبی کی ہڈی تھی یا کسی انسان کی؟ اور اس راہب کے ہاتھ ہڈی کہاس سے آئی۔؟ واقعة وہ ہڈی نبی کی ہو تو اس کا ثبوت کیا ہے ؟ ایسے اشکالات پیدا ہو رہے ہیں لہٰذا تفصیل سے جواب تحریر فرمائیں۔
جواب
حدیث شریف سے ثابت ہے کہ حضرات انبیاءکرام عليہم السلام اپنی قبروں میں حیات ہیں، نماز پڑھتے ہیں، ان کو رزق پہونچایا جاتا ہے، خدا تعالیٰ نے انبیاءعلیہم السلام کے بدن مبارک کو زمین پر حرام کر دیا ہے ۔ ص32
اردو شرح
مشکوة شریف
جلد اول
علامہ نواب محمد قطب الدین خاں دہلوی رحمہ اﷲ علیہ
حدیث کی تشریح سے چند باتوں پر روشنی پڑتی ہے۔ اول يہ کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو حیات جسمانی حاصل ہے کہ جس طرح آپ کو اس دنیا میں زندگی حاصل تھی، اسی طرح آپ ﷺ قبر میں بھی زندگی حاصل ہے۔ ص 647

مولف
حضرت مولانا الحاج المحدث محمد زکریا صاحب
فائدہ:
دوسری متعدد احادیث میں آیا ہے کہ جو دور سے کوئی شخص دردو شریف پڑھتا ہے تو اﷲ جل شانہ نے فرشتے مقرر رکھے ہیں جو اس کاسلام مجھ تک پہنچاتے ہیں ۔ اس حدیث شریف میں قبر شریف پر کھڑ ے ہو کر درود شریف پڑھنے کی کس قدر فضلیت ہے۔ کہ سرور عالم صلی اﷲ علیہ وسل اس کو خودبہ نفس نفیس سنتے ہیں۔ اور کس قدر خوش نصیب ہیں وہ مبارک جو اس پاک شہر میں رہنے والے ہیں اور ہروقت بلا واسطہ درور شریف حضور ﷺ کو سناتے رہتے ہیں۔ ص127-128

عقیدہ حیات النبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے متعلق
علماء اہلحدیث کے علماء کے فتاوی جات اور موقف

فتاوی نذیریہ
شیخ الکل فی الکل حضرت مولانای سید محمد نذیر حسین محدث دہلوی1902
حضرات انبیاءعلیہم الصلوة والسلام اپنی اپنی قبراوں میں زندہ ہیں۔ خصوصاً آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کہ فرماتے ہیں کہ عند القبر درود بھیجتا ہے میں سنتا ہوں اور دور سے پہنچا یاجاتا ہوں۔ چنانچہ مشکوة وغیرہ کتب حدیث سے واضح ہوتا ہے لیکن کیفیت حیات کی اﷲ تعالی جانتا ہے اوروں کو اس کی کیفیت بخوبی معلوم نہیں۔ ص 52
شیخ الحدیث حضرت مفتی عبدالستار محدث دہلوی
امام جماعت غربا اہلحدیث
انبیاءکی لاش دورد آپ تک پہنچنے اور خودسننے بابت سوال
سوال (559) کیا فرماتے ہیں علماءدین اس بارے میں کہ جس طرح عام مردوں کی لاش خراب ہوجاتی ہے کہ اسی طرح انبیاءکی لاش خراب ہو جاتی ہے اور تمام انبیاءحیات ہیں کہ نہیں؟
(2) جو شخص آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم پر درود بھیجے اور يہ درود فرشتے لے جاکر آنحضرت کو سناتے ہیں یا نہیں؟
(3)جو شخص آنحضرت کی قبر پر جا کر سلام کرتاہے آنحضرت خو داس کو جواب ديتے ہیں یا نہیں؟
عبد الرحمن جیکب لاين کراچی
جواب(559) الجواب بعون الوباب۔ صورت مسنون میں واضح بادکہ
(1) انبیاءعلیہ السلام کا جسم مرنے کے بعد خراب نہیں ہوتا بلکہ بعینہ صحیح سالم رہتا ہے چنانچہ حدیث شریف میں ہے ۔ ان اﷲ حرم علے الارض ان تاکل اجساد الانبیا۔ یعنی اﷲ تعالی نے زمین پر حرام کر دیا ہے کہ اجساد انبیاءکو کھائے(یعنی خراب کرے) انبیاء برزخی زندگی حاصل ہے۔
(2) ہاں فرشتے درود نبی علیہ السلام کو پہنچاتے ہیں۔
(3) جو شخص آپ کی قبر پر جاکر سلام کہتا ہے اس کا سلام آپ خود سنتے ہیں۔یہاں سے نہیں سنتے کیونکہ فرشتے پہنچانے کے لئے اس نے مقرر فرمائے ہیں۔فقط عبد الستار عفرلہ ۔ص91
مصنف
شہید السلام علامہ حبیب اﷲ یزدانی ؒ
پتہ چلا کہ میر ے آقا دینا سے وفات پا چکے ہیں باقی رہ گیا قبر کی زندگی کا، میرا عقیدہ ہے کہ نبی قبر کی زندگی سے زندہ ہے، دنیاوی زندگی نہیں،وہ قبرکی زندگی ہے،ہم تو ولی کی قبر کی زندگی مانتے ہیں،نبی کی مانتے ہیں،کافر مانتے ہیں، مشرک کی مانتے ہیں اگر قبر کی زندگی نہ مانیں تو کافر کوعذاب قبر کیسا ہے؟ ص56
حصہ اول
ترجمہ فوائد
حضرت علامہ وحید الزمان رحمہ اﷲ علیہ
ايک بات اور بھی سن لینا چاہيے۔ کہ آنحضرت ﷺ اپنی قبر شریف میں زندہ ہیں،پس آپ کی قبر شریف کے پاس اور اسی طرح دوسرے اولیاء اور عرفا کی قبور پر ندا کے ساتھ سلام کرنا درست ہے، جیسے السلام عليک یا رسول اﷲ۔ ص685

فتاوی جات ڈوان لوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کریں

جرات کا نام ہیں دیوبند والے
Share this article :

Post a comment

 

Copyright © 2011. Al Asir Channel Urdu Islamic Websites Tarjuman Maslak e Deoband - All Rights Reserved
Template Created by piscean Solutions Published by AL Asir Channel
Proudly powered by AL Asir Channel