Home » » آلٰہ حضرت احمد رضا خان کی حقیقت کیا ہے ؟

آلٰہ حضرت احمد رضا خان کی حقیقت کیا ہے ؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
تاریخ کے جھرکوں سے!۔
بانی بریلویت جناب احمد رضا خان کے خاندان کے متعلق صرف اتنا ہی کہوں گا کہ ان کے والد اور دادا کا شمار احناف کے علماء میں ہوتا ہے۔۔۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کا تعلق شیعہ خاندان سے تھا انہوں نے ساری زندگی تقیہ کئے رکھا اور اپنی اصلیت ظاہر نہ ہونے دی تاکہ وہ اہل سنت کے درمیان شیعہ عقائد کو رواج دے سکیں۔۔۔

ان کے قریبی ساتھی اس کے ثبوت کے لئے جن دلائل کا ذکر کرتے ہیں ان میں سے چند ایک میں یہاں ییش کرتا چلوں تاکہ حیقیت بریلویت کا حقیقیت سب کے سامنے آشکار ہو جائے اور جو شہبات دلوں میں باقی رہ گئے ہیں اُن کو دور کر کے اس فرقے سے پھیلنے والے فتوں کی کڑی نظر رکھی جائے اور دین اسلام کو ایک گھریلو خود ساختہ حلوے مانڈے والا دین ہونے سے بچانے کے لئے ان نام نہاد اہلسنت والجماعت پر قدغن لگائی جاسکے۔۔۔
١۔ احمد رضا خان کے آباؤ اجداد کے نام شیعہ اسماء سے مشابہت رکھتے ہیں ان کا شجرہ نسب کچھ یوں ہے۔۔۔
احمد رضا بن نقی علی بن رضا علی بن کاظم علی (حیات اعلٰحضرت صفحہ ٢)
٢۔بریلویوں کے اعلحضرت نےام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے خلاف نازیبا کلمات کہے ہیں عقیدہ اہلسنت سے وابستہ کوئی شخص ان کا تصور بھی نہیں کر سکتا اپنےایک قصیدے میں لکھا ہے کہ!۔
تنگ و چست ان کا لباس اور وہ جوبن کا اُبھار
مسکی جاتی ہے قبا سر سے کمر تک لے کر
یہ پھٹا پڑتا ہے جو بن مرے دل کی صورت
کہ ہوئےجاتے ہیں جامہ سے بروں سینہ وبر
(حدائق بخشش جلد ٣ صفحہ ٢٣)
٣۔ انہوں نے مسلمانوں میں شیعہ مذہب سے ماخوذ عقائد کی نشرو اشاعت میں بھرپور کرادار ادا کیا۔۔۔کوئی ظاہر شیعہ اپنے اس مقصد میں اتنا کامیاب نہ ہوتا جتنی کامیابی احمد رضا صاحب کو اس سلسلے میں تقیہ کے لبادے میں حاصل ہوئی ہے انہوں نے اپنے تشیع پر پردا ڈالنے کے لئے چند ایسے رسالے بھی تحریر کئے جن میں ظاہر شیعہ مذہب کی مخالفت اور اہلسنت کی تائید پائی جاتی ہے شیعہ تقیہ کا یہی مفہوم ہے جس کا تقاضا انہوں نےکما حقہ ادا یا۔۔۔
٤۔ جناب احمد رضا صاحب نےاپنی تصنیفات میں ایسی روایات کا ذکر کثرت سے کیا ہے جو خالصتا شیعی روایات ہیں اور ان کا عقیدہ اہلسنت سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔۔۔
مثلا!۔
١۔ ان علینا قسیم النار (الامن والعلی مصنفہ احمد رضا بریلوی صفحہ ٥٨)۔۔۔
٢۔ ان فاطمہ سمیت بقاطمۃ لان اللہ فطمھا وذریتھا من النار (ختم نبوت از احمد رضا صفحہ ٩٨)۔۔۔
یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ قیامت کے روز جہنم تقسیم کریں گے۔۔۔اور فاطمہ رضی اللہ عنہ کا نام فاطمہ اس لئے رکھا گیا کہ اللہ تعالٰی نے انہیں اور ان کی اولاد کو جہنم سے آزاد کر دیا ہے۔۔۔
٣۔ شیعہ اماموں کو تقدس کا درجہ دینے کے لئے انہوں نے یہ عقیدہ وضع کیا کہ اغواث (جمع غوث یعنی مخلوقات کی فریاد رسی کرنے والے) حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ہوتے ہوئے حسن عسکری تک پہنچتے ہیں اس سلسلے میں انہوں نے وہی ترتیب ملحوظ رکھی جو شیعہ کے اماموں کی ہے (ملفوظات صفحہ ١١٥)۔۔۔
٤۔ احمد رضا نے باقی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو چھوڑ کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مشکل کشا قرار دیا اور کہا۔۔۔
جو شخص دعائے سیفی (جو شیعہ عقیدے کی عکاسی کرتی ہے) پڑھے اس کی مشکلات حل ہو جاتی ہیں۔۔۔
دعائے سیفی درج ذیل ہے؛
ناد علینا مظہر العجائب
تحدہ عونالک فی النوئب
کل ھم وغم سیخلی
بولایتک یا علی یا علی
یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پکارو جن سے عجائیبات کا ظہور ہوتا ہے تم انہیں مددگار پاؤ گے اے علی آپ کی ولایت کے طفیل تمام پریشانیاں دور ہوجاتی ہیں (الامن والعلی صفحہ ١٢۔١٣)
Share this article :

Post a comment

 

Copyright © 2011. Al Asir Channel Urdu Islamic Websites Tarjuman Maslak e Deoband - All Rights Reserved
Template Created by piscean Solutions Published by AL Asir Channel
Proudly powered by AL Asir Channel