Home » » Raza Khani Mazhab Ki Haqeeqt رضاخانی تحریفات 1 تا 31,

Raza Khani Mazhab Ki Haqeeqt رضاخانی تحریفات 1 تا 31,


حضرت اقدس(پیر مہر علی شاہ صاحب) مسجد میں رونق افروز تھے کہ مسمی پائیندہ خان ساکن حسن ابدال کا کوئی مقدمہ تھا جس کی وجہ سے وہ حاضر ہوا اور حضور سے استدعا کررہا تھا اور بار بار یہی کہہ رہا تھا کہ حضور مقبول بارگا ہ الٰہی ہیں جو کچھ چاہیں اور جس وقت چاہیں خدا سے کراسکتے ہیں حضور نے فرمایا ایسا مت کہو کیونکہ یہ عقیدہ از روئے قرآن و حدیث شریف بالکل صحیح نہیں اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے مقبولوں کو اتنی طاقت بخشی ہے کہ جس امر کی طرف دل سے متوجہ ہوجائیں اللہ تعالی وہ کام کردیتا ہے لیکن یہ ٹھیک نہیں کہ جسوقت چاہیں اور جو کچھ چاہیں ہوجائے کیونکہ رسول علیہ السلام اپنے چچا ابو طالب کے واسطے یہی چاہتے تھے کہ وہ اسلام لاوہیں اور ظہور میں ایسا نہ آیا جس سے صاف پایا جاتا ہے کہ جب نبی کو کل اختیار نہیں تو ولی کو کس طرح ہو یہ تب ہو کہ نعوذ باللہ نعوذ باللہ کہ اللہ تعالی اپنے کسی نبی یا ولی کو سب اختیار دیکر آپ معطل ہو بيٹھے اور یہ بالکل برخلاف عقیدہ اسلام ہے جو لوگ نبی یا ولی کا وسیلہ ترک کرکے براہ راست خدا کو ملنا چاہتے ہیں وہ بھی راہ راست پر نہیں ہیں کیونکہ وہ اس خیال میں شیطان کے پیرو ہیں چنانچہ جب شیطان کو حکم ہوا کہ آدم کو سجدہ کرے اور تعظیم میرے مقبول کو بجالائے وہ کہنے لگا خدا توہے اس کے درمیان کیا ضرورت ہے لہٰذا اس وجہ سے مردود بارگاہ ایزدی ہوگیا۔غرض کے بندہ بندہ ہے اور خداخدا قلوب بنی آدم خدا کے ہاتھ میں ہے جس امر کو کرنا چاہے اپنے کسی مقبول کادل اس طرف متوجہ کردیتا ہے اور اگرنہ کرنا چاہے تواس کے دل کو اس طرف توجہ ہی نہیں دیتا اسی واسطے دیکھا جاتا ہے کہ اکثر اولیاءکی اولاد بے فیض رہ جاتی ہے اور فیض کوئی اور نصیب والا لیکر چلا جاتا ہے ۔
(مکتوبات طيبات معروفہ بمہر چشتیہ ،ص ۷۲۱،طبع اول ۔مطبوعہ حجازی پرنٹنگ پریس بیرون موری گيٹ لاہور)
چونکہ حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب کا یہ ملفوظ بریلوی خانہ ساز عقیدہ ”مختار کل “ کے سراسر خلاف تھا اس لئے پنڈی سے طبع ہونے والے مکتوبات کے جدیدایڈیشن جو 1996 میں شائع ہوا اس میں اس مکمل عبارت کو بڑوں کی غلطی تسلیم کرتے ہوئے بالکل حذف کردیا گیا اس مجرمانہ حرکت پر جتنا افسوس کیا جائے کم ہے۔
رضاخانی تحریف نمبر 2
مولوی حسنین رضا نے اپنے اعلی حضرت کے وصایا شریف کو شایع کروایا جس کے آخر میں دوصفحات پر ان کی مختصر سوانح بھی دی جس میں ایک انتہائی دل آزار عبارت ان الفاظ کے ساتھ تھی:
(مولوی احمد رضاخان کے ) زہد و تقوی کا یہ عالم تھاکہ میں نے بعض مشائخ کرام کو یہ کہتے سنا ہے کہ ان کو دیکھ کر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی زیارت کا شوق کم ہوگیا (وصایا شریف ،ص24،حسنی پریس بریلی)
بریلویوں نے مولوی حسن علی رضوی میلسی کی تقدیم کے ساتھ جب اس کو پاکستان میں شائع کروایا تو سوانح پر موجود ان دو متنازعہ صفحات کو اختصار کا بہانہ کرکے بالکل ہی غائب کردیا گیا۔ٍلیکن اس کے بعدپھر 1996 میں یٰس اختر مصباحی کی اصلاح کے ساتھ پروگریسو بکس لاہور والوں نے ان وصایا کو شائع کیاتو یہ دو صفحات تو دئے مگر متنازعہ فیھا عبارت میں اس طرح تحریف کردی:
میں نے خود بعض مشائخ کرام کو یہ کہتے سنا کہ اعلی حضرت کے اتباع سنت کو دیکھ کر صحابہ کرام کی زیارت کا لطف آگيا ۔یعنی اعلی حضرت قبلہ صحابہ کرام کے زہد و تقوی کا مکمل نمونہ اور مظہر اتم ہیں۔(وصایا شریف،ص ۷،پروگریسو بکس لاہور)
قارئین کرام خود سوچیں یہ جاہل سمجھ رہا ہے کہ اب یہ جملہ قابل اعتراض نہیں رہا حالانکہ حقیقتا پہلے سے بھی زیادہ گستاخی ہے۔

رضاخانی تحریف3
بریلویوں کی یہ عادت ہے کہ جب ان سے اپنی گستاخانہ عبارات کاکوئی جواب نہیں بن پڑتا تو اسے کاتب کے ذمہ لگادیتے ہیں کہ کاتب وہابی تھا اس نے یہ سارا کیایعنی ”الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے“ والی بات ہوئی وصایا کی اس عبارت کے متعلق بھی بریلویوں نے یہی ڈرامہ کیا ۔۔مگر اس جھوٹ پر پرڈہ ڈالنے کیلئے اور کتنے جھوٹ بولنے پڑے وہ بھی ملاحظہ فرماتے جائیں ۔
اگر وصایا کی متنازعہ عبارت کچھ اور تھی تو وہ کیا تھی۔۔؟؟؟مولوی حسن علی رضامیلسی کہتے ہیں کہ اصل عبارت یہ تھی
زہد و تقوی کا یہ عالم تھاکہ میں نے بعض مشائخ کرام کو یہ کہتے سنا ہے کہ ان کو دیکھ کر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی زیارت کا شوق اور زیادہ ہوگیا (وصایا شریف پر لایعنی اعتراضات کے جوابات، ص 46از حسن علی رضوی)
مگر دوسری طرف یس اختر مصباحی کہتے ہیں کہ اصل عبارت یہ تھی:
میں نے خود بعض مشائخ کرام کو یہ کہتے سنا کہ اعلی حضرت کے اتباع سنت کو دیکھ کر صحابہ کرام کی زیارت کا لطف آگيا ۔یعنی اعلی حضرت قبلہ صحابہ کرام کے زہد و تقوی کا مکمل نمونہ اور مظہر اتم ہیں(وصایا شریف پر اعتراضات مو جوابات ، ص 40 از یس اختر مصباحی)
غور فرمائیں کہ ایک جھوٹ پر پردہ ڈالنے کیلئے کتنے جھوٹ بولے گئے اور کیاکیا تحریفات کی گئی۔


رضاخانی تحریف نمبر 4
حضرت شیر محمد شرقپوری صاحب کے حالات میں ان کے خادم خاص جناب صوفی محمد ابراہیم صاحب لکھتے ہیں:
مولانا مولوی انور علی شاہ صاحب صدر مدرسہ دیوبند ہمراہ مولوی احمد علی صاحب مہاجر لاہوری شرق پور شریف حاضر ہوئے اور حضرت میاں صاحب علیہ الرحمة کو بڑی ارادت سے ملے آپ ان سے کچھ باتیں کرتے رہے اور شاہ صاحب خاموش رہے۔پھر آپ نے مولانا انور شاہ صاحب کو بڑی عزت سے رخصت کیا ۔موٹر اڈے تک حضرت میاں صاحب خود سوار کرنے کیلئے تشریف لائے ۔شاہ صاحب نے میاں صاحب علیہ الرحمة سے کہا ۔آپ میری کمر پر ہاتھ پھیر دیں ۔آپ نے ایسا ہی کیا اور رخصت کرکے واپس مکان پرتشریف لے آئے۔بعد ازاں آپ نے بندے سے فرمایا شاہ صاحب بڑے عالم ہوکر اور پھر میرے جیسے خاکسار سے فرمارہے تھے کہ میری کمر پر ہاتھ پھیردیں ۔اور حضرت میاں صاحب علیہ الرحمة نے فرمایا دیوبند میں چار نوری وجود ہیں ان میں سے ایک شاہ صاحب ہیں
(خزینہ معرفت ،باب 13،ص 384،مکتبہ سلطان عالمگیر اردو بازارلاہور )
مگر جدید طبع میں اس پور ی عبارت کو حذف کردیا گیا ۔بعض ناشرین کی غفلت کو علمائے دیوبند کی علمی خیانت کہنے والوں کو کیا یہ تحریف اور بددیانتیاں نظر نہیں آتیں۔۔؟؟جواب دیں
یہ وہ مقام ہے کہ جہاں سوچنا پڑا
اب خودکشی کریں کے حوالے لکھا کریں
رضاخانی تحریف نمبر 5
علامہ قسطلانی ؒ بخاری شریف کی شرح میں لکھتے ہیں کہ:
و قول الداودی ما اظن قولہ فی ھذہ الطریق من حدثک ان محمد ا یعلم الغیب محفوظا وما احد یدعی ان رسول اللہ کان یعلم من الغيب الا ما علمہ اللہ قد متعقب بان بعض من لم یرسخ فی الایمان کان یظن ذالک حتی کان یرای ان صحة النبوة تستلزم اطلاع النبی علی جمیع المغیبات ففی مغازی ابن اسحاق ؒ ان ناقتہ ضلت فقال ابن الصلیت ۔۔۔۔۔ یزعم محمد انہ نبی و یخبرکم عن خبر السماءوھو لایدری این ناقتہ فقال النبی ان رجلا یقول کذا وکذا و انی واللہ لااعلم الا ما علمنی اللہ وقد دلنی اللہ علیھا و ھی فی شعب کذا قد حبستھا شجرة فذھبوا فجاوا بھا فاعلم انہ لا یعلم من الغیب الا ما علمہ اللہ ۔
(ارشاد الساری ،ج10،ص 296)
امام داودی کا یہ کہنا کہ اس سند میں یہ قول محفوظ نہیں ہے کہ جو شخص تجھے یہ کہے کہ آپ غيب جانتے تھے کیونکہ ایسا تو کوئی شخص نہ تھا جو یہ دعوی کرتا کہ حضور ﷺ علیہ السلام کو علم غيب حاصل تھا مگر جتنا اللہ تعالی نے آپ کو علم دیا تھا (قسطلانی ؒ کہتے ہیں کہ) داودی کا یہ قول مردود ہے کیونکہ بعض وہ لوگ جن کا ایمان راسخ نہیں تھا (یعنی وہ منافق تھے)وہ خیال کرتے تھے حتی کہ ان کہ ان کا نظریہ یہ تھا کہ نبوت کی صحت اس کو مستلزم ہے کہ نبی کو تمام مغيبات پر اطلاع ہو چنانچہ ابن اسحاق کے مغازی میں یہ واقعہ مشہور ہے کہ ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ کی اونٹنی گم ہوگئی تو ابن صلیت منافق نے کہا کہ محمد(ﷺ)گمان کرتا ہے کہ وہ نبی ہے اور تمھیں آسمان کی خبریں بتاتا ہے اور وہ یہ نہیں جانتے کہ ان کی اونٹنی کہاں ہے؟آنحضرت ﷺ نے فرمایا ایک شخص ایسا اور ایسا کہتا ہے اور خدا کی قسم میں نہیں جانتا مگر صرف وہی جو کچھ اللہ تعالی نے مجھے بتاياہے کہ اونٹنی فلاں گھاٹی میں ہے اور ایک درخت میں پھنسی ہوئی ہے جب لوگ وہاں گئے تو اس اونٹنی کو وہاں سے لے آئے تو آنحضرت ﷺ نے صاف بتاديا کہ میں غيب نہیں جانتا مگر صرف اتنا ہی جتنا مجھے اللہ بتائے۔
کہ علامہ قسطلانی رحمة اللہ علیہ یہ فرمارہے ہیں کہ وہ لوگ جو ایمان میں راسخ نہیں وہ یہ سمجھتے ہیں کہ نبی کی نبوت کی صحت اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ جمیع مغيبات پر مطلع ہو۔اب ذرا بریلوی مناظر اعظم جنید زماں کی علمی دیانت بھی ملاحظہ ہو کہ وہ علم غيب پر استدلال کرتے ہوئے انتہائی بدیانتی کاثبوت دے کر اپنے کمال کو چار چاند لگاتے ہوئے بزرگان دین کی عبارات سے اپنا موقف ثابت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:
قسطلانی ج10،ص 356 ان صحة النبوة تستلزم اطلاع النبی علی جمیع المغيبات بے شک نبی کی صحت مستلزم ہے کہ تمام مغيبات پر نبی ﷺ کو اطلاع ہو۔ (مقیاس حنفیت ،ص ۷۸۳،المقیاس پبلشرزدربار مارکیٹ لاہور)
آپ نے دیکھا کہ علامہ قسطلانی ؒکی یہ عبارت کہ یہ عقیدہ ایمان میں راسخ نہ ہونے والوں کا ہے کو بالکل ہضم کرکے مولوی عمر اچھروی عبارت میں قطع و برید کرکے کس طرح اپنا جھوٹا مسلک ثابت کررہے ہیں؟؟ حيف ہے ایسی دیانت پر اور افسوس ہے ان لوگوں پر جو ایسے بددیانتوں کو رہبر تسلیم کئے ہوئے ہیں اور اپنے گھر کی خبر نہیں رکھتے دوسروں پر اعتراض کرتے ہیں۔
تجھے دوسروں کی آنکھ کاتنکا تو نظر ٓاتا ہے
ذرا اپنی آنکھ کا شہتیر بھی دیکھ لے اے غافل
ایک ہی کتاب میں تحریفات کا عالمی ریکارڈ
بریلوی مذہب کے بانی مولوی احمد رضاخان کے ”ملفوظات“ اس کے بيٹے مولوی مصطفی رضاخان نے جمع کئے اور ان کوشائع کروایاجب یہ ملفوظات شائع ہوکر عوام کے سامنے آئے تواہل علم یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ان ملفوظات میں جگہ جگہ اللہ اور اس کے رسول ﷺکی توہین اور من گھڑت واقعات وحکایات کی بھرمار ہے۔چنانچہ اہلسنت نے ان گستاخانہ عبارات پر اعتراضات کئے اور اہل بدعت سے ان کی وضاحت طلب کی ۔۔اب ہونا تو یہ چاہئے تھاکہ یہ لوگ ان گستاخیوں سے توبہ کرتے اور احمد رضاخان سے برات کا اظہار کرتے ۔۔لیکن انھوں نے ان گستاخیوں کوجوازفراہم کرنے کیلئے طرح طرح کی تاویلیں شروع کردیں۔مگر جب ہر طرح سے ان کا محاسبہ کیا گيا توبریلوی حضرت نے ان گستاخیوں پر پردہ ڈالنے کیلئے انتہائی بھونڈی حرکت کرتے ہوئے ان میں تحريف کردی۔ حال ہی میں ”بریلوی دعوت اسلامی“ والوں نے اپنے امیر ”مولوی الیاس قادری“ کی ایماءپر جب ملفوظات کا جدید ایڈیشن شائع کیا توان میں ان سب عبارات کو یاتو سرے سے حذف کردیا یا ان میں اس طرح رد و بدل کردیاکہ ان پر کوئی اعتراض وارد نہ ہواور گوياقريبا سوسول بعد اپنے ”آلہ حضرت“ کی اصلاح کردی۔صرف اس ایک کتاب میں اتنے مقامات پر تحریف کی گئی ہيں کہ اگر انھیں ورلڈ رریکارڈ کیلئے پیش کیا جائے تو پوری دنیا میں اس کتاب کی اول پوزیشن آئی گی ملاحظہ ہوں چند تحریفات :
رضاخانی تحریف 6
ملفوظات کی اصل عبارت
مولوی احمد رضاخان اپنے ایک پیر بھائی برکات احمد کے جنازے کی کیفيت بيان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ:
جب ان کا انتقال ہوااور میں دفن کے وقت ان کی قبر پر گزراتو مجھے بلا مبالغہ وہ خوشبو محسوس ہوئی جوپہلی بار روضہ انور کے قريب پائی تھی ان کے انتقال کے دن مولوی سید امیر احمد صاحب مرحوم خواب میں زيارت اقدس ﷺسے مشرف ہوئے کہ گھوڑے پر تشریف لئے جاتے ہیں عرض کی یا رسول اللہ !حضور کہاں تشريف لئے جاتے ہیں فرمایا برکات احمد کی جنازے کی نماز پڑھنے الحمد للہ یہ جنازہ مبارکہ میں نے پڑھایا ۔یہ وہی برکات احمد ﷺتھیں کہ محبت پیر و مرشد کے سبب انھيں حاصل ہوئیں-ملفوظات ،حصہ دوم،ص142
اس ملفوظ کی عبارت پر غور فرمائیں کہ کس قدر گستاخی کی گئی ہے کہ معاذ اللہ حضور ﷺکواپنا مقتدی اور مولوی احمد رضاخان خود کو حضور ﷺکاامام بنا کر اس پر اللہ کاشکر ادا کررہے ہیں افسوس وہ ذات جو امام الانبیاءہے اسے احمد رضاخان کا مقتدی بنانے پر فخر کیا جارہا ہے ۔اب دیکھیں کہ اس میں کس طرح تحريف کردی گئی ہے۔
بریلوی دعوت اسلامی کے غازيوں کا کارنامہ
جب ان کا انتقال ہوااور میں دفن کے وقت ان کی قبر پر گزراتو مجھے بلا مبالغہ وہ خوشبو محسوس ہوئی جوپہلی بار روضہ انور کے قريب پائی تھی ان کے انتقال کے دن مولوی سید امیر احمد صاحب مرحوم خواب میں زيارت اقدس ﷺسے مشرف ہوئے کہ گھوڑے پر تشریف لئے جاتے ہیں عرض کی یا رسول اللہ !حضور کہاں تشريف لئے جاتے ہیں فرمایا برکات احمد کی جنازے کی نماز پڑھنے ۔یہ وہی برکات احمد ﷺتھیں کہ محبت پیر و مرشد کے سبب انھيں حاصل ہوئیں-ملفوظات ،حصہ دوم،ص142
غور فرمائیں بيچ میں سے متنازعہ فیہ عبارت ” الحمد للہ یہ جنازہ مبارکہ میں نے پڑھایا “ کو بالکل حذف کردیا گيا۔ کیوں۔۔؟؟؟ یہ فیصلہ آپ نے کرنا
رضاخانی تحریف 7
ملفوظات کی اصل عبارت
ایک بار عبد الرحمن قاری کہ کافر تھااپنے ہمراہیوں کے ساتھ حضور اقدس ﷺ کے اونٹوں پر آپڑاچرانے والوں کوقتل کیا اور اونٹ لے گيا اسے قرات سے قاری نہ سمجھ لیں بلکہ قبیلہ بنو قارہ سے تھا ،سلمہ رضی اللہ تعالی عنہ کو خبر ہوئی پہاڑ پر جاکر۔۔۔
اس عبد الرحمن قاری سے پہلے کسی لڑائی میں ان سے وعدہ جنگ ہولیا تھایہ وقت اس کے اس پورا ہونے کا آیا وہ پہلوان تھا اس نے کشتی مانگی ا نھوں نے قبول فرمائی اس محمدی شیر نے خوک شیطان کو دے مارا خنجر لے کر اس کے سےنے پر سوار ہوئے۔الخ
ملفوظات ،حصہ دوم ،ص 164تا166
قارئین کرام اس ملفوظ میں احمد رضاخان نے اسماءالرجال سے جہالت کی بناءپر ایک صحابی رسول ﷺ یعنی عبد الرحمن بن عبد القاری کو کافر خوک اور نہ جانے کیا کیا کہہ دیا حالانکہ جس عبد الرحمن کا اس واقعہ میں ذکر ہے وہ عبد الرحمن فزاری قبیلہ بنو فزارہ کا فرد تھا مگر احمد رضاخان اس کوقبيلہ بنو قارہ جس سے حضرت عبد الرحمن بن عبد القاری رضی اللہ تعالی عنہ کا تعلق تھاباور کراتے ہیں۔اہلسنت کو اس پر شدید اعتراض ہوا کہ اس میں ایک صحابی رسول ﷺکی شدید توہین کی گئی ہے۔بریلویوں نے اس گستاخی پر پردہ ڈالنے کیلئے جوشرمناک حرکت کی آپ حضرات ملاحظہ فرمائیں
بریلوی دعوت اسلامی کے غازيوں کا کارنامہ
ایک بار عبد الرحمن فزاری کہ کافر تھااپنے ہمراہیوں کے ساتھ حضور ﷺاقدس ﷺ کے اونٹوں پر آپڑاچرانے والوں کوقتل کیا اور اونٹ لے گيا،سلمہ رضی اللہ تعالی عنہ کو خبر ہوئی پہاڑ پر جاکر۔۔۔
اس عبد الرحمن فزاری سے پہلے کسی لڑائی میں ان سے وعدہ جنگ ہولیا تھایہ وقت اس کے اس پورا ہونے کا آیا وہ پہلوان تھا اس نے کشتی مانگی ا نھوں نے قبول فرمائی اس محمدی شیر نے خوک شیطان کو دے مارا خنجر لے کر اس کے سينے پر سوار ہوئے۔الخ
﴾ملفوظات ،حصہ دوم ،ص 229،230﴿
غور فرمائیں دونوں جگہ ”قاری“ کو ”فزاری“ سے تبدیل کرکے کس طرح اس گستاخی پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی پھر احمد رضاخان کی عبارت”اس کو قرات سے قاری نہ سمجھ لینا بلکہ بنو قارہ سے تھا“ کوبالکل حذف کردیا گيا جس سے تمام باطل تاویلات (مثلاکتابت کی غلطی وغيرہ) کی بيخ کنی ہوجاتی تھی۔ایساکیوں کیا گيا۔۔؟؟فیصلہ آپ حضرات نے کرنا ہے۔
رضاخانی تحریف 8
ملفوظات کی اصل عبارت
حافظ الحديث سےدی احمدسجلماسی کہیں تشریف لے جاتے تھے راہ میں اتفاقا آپ کی نظر ایک نہايت حسينہ عورت پر پڑگئی یہ نظراول تھی بلا قصد تھی دوبارہ پھر آپ کی نظر اٹھ گئی اب دیکھا کہ پہلو میں حضرت سیدی غوث الوقت عبد العزیز دباغ رضی اللہ تعالی عنہ آپ کے پیرو مرشد تشریف فرما ہیں اور فرماتے ہیں احمد عالم ہوکر۔ انھيں سیدی سجلماسی کی دو بيوياں تھيں سيدی عبد العزيز دباغ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ رات کو تم نے ایک بیوی کے جاگتے ہوئے دوسری سے ہمبستری کی یہ نہیں چاہئے،عرض کیا حضور اقدس وہ سوتی تھی فرمایا سوتی نہ تھی سوتی میں جان ڈال لی تھی۔عرض کیا کہ حضور کو کس طرح علم ہوا فرمایا جہاں وہ سو رہی تھی کوئی اور پلنگ بھی تھاعرض کیا ہاں ایک پلنگ خالی تھا فرمایا اس پر میں تھا تو کسی وقت شیخ مرید سے جدا نہیں ہر آن ساتھ ہے۔
ملفوظات ،حصہ دوم ،ص169
غور فرمائیں ایسے شرم کامقام جہاں فرشتے بھی الگ ہوجاتے ہیں کس طرح یہ باور کرایا جارہاہے کہ ایک ولی اس مخصوص حالت میں بھی میاں بیوی کے درمیان موجود ہوکر ساری ”کاروائی“ دیکھ رہا ہوتاہے۔اسلام میں تو نامحرم عورت کی طرف قصدا نظر اٹھانا بھی جائز نہیں اور بقول احمد رضاخان میاں بیوی کے جماع کے وقت پیر و مرشد حاضر ہوتے ہیں اور سب کچھ دیکھ رہے ہوتے ہیں۔
بریلوی دعوت اسلامی کے غازيوں کا کارنامہ
موجودہ بریلویوں نے اس پورے واقعہ کو ہی حذف کردیا ہے ۔ملاحظہ ہو ملفوظات حصہ دوم ص ۴۳۲۔ایسا کیوں کيا گيا اس کا فیصلہ آپ نے کرناہے۔
رضاخانی تحریف9
ملفوظات کی اصل عبارت
حضرت سیدی موسی سہاگ رحمة اللہ علیہ مشہور مجاذیب سے تھے احمد آباد میں مزار شريف ہے میں زیارت سے مشرف ہوا ہوں زنانہ وضع رکھتے تھے ایک بار قحط شديد پڑابادشاہ وقاضی واکابر جمع ہوکر حضر ت کے پاس دعا کیلئے گئے انکار فرماتے رہے کہ میں کیا دعا کے قابل ہوں جب لوگوں کی آہ وزاری حد سے گزر ی ایک پتھر اٹھايا اور دوسرے ہاتھ کی چوڑيوں کی طرف لائے اور آسمان کی جانب منہ اٹھا کر فرمایا ”مینہ بھيجئے یا اپنا سہاگ لیجئے“یہ کہنا تھاکہ گھٹائیں پہاڑ کی طرح امڈیں۔۔اور جل تھل بھر دئے ایک دن نماز جمعہ کے وقت بازار میں جارہے تھے ادھر سے قاضی شہر کہ جامع مسجد کوجاتے تھے آئے انھيں دیکھ کر امر بالمعروف کیاکہ یہ وضع مردوں کا حرام ہے مرادنہ لباس پہنئے اور نماز کو چلئے اس پر انکار و مقابلہ نہ کیا چوڑیاں اور زیور اور زنانہ لباس اتارا مسجدکو ہولئے ۔خطبہ سنا۔جب جماعت قائم ہوئی اور امام نے تکیبر تحریمہ کہی اللہ اکبر سنتے ہی ان کی حالت بدلی فرمایا اللہ اکبر میرا خاوند حی لایموت ہے کبھی نہ مرے گا اور یہ مجھے بیوہ کئے ديتے ہیں۔۔﴾ملفوظات ،حصہ دوم، ص208﴿
بریلوی دعوت اسلامی کے غازيوں کا کارنامہ
حضرت سیدی موسی سہاگ رحمة اللہ علیہ مشہور مجاذیب سے تھے احمد آباد میں مزار شريف ہے میں زیارت سے مشرف ہوا ہوں زنانہ وضع رکھتے تھے ایک بار قحط شدےد پڑابادشاہ وقاضی واکابر جمع ہوکر حضر ت کے پاس دعا کیلئے گئے انکار فرماتے رہے کہ میں کیا دعا کے قابل ہوں جب لوگوں کی آہ وزاری حد سے گزر ی ایک پتھر اٹھايا اور دوسرے ہاتھ کی چوڑيوں کی طرف لائے اور آسمان کی جانب منہ اٹھا کر فرمایا ”مینہ بھےجئے “یہ کہنا تھاکہ گھٹائیں پہاڑ کی طرح امڈیں۔۔اور جل تھل بھر دئے۔﴾ملفوظات ،حصہ دوم،ص294﴿
غور فرمائیں ”مینہ بھیجئے“ سے آگے کی عبارت ”یا اپنا سہاگ لیجئے“ کو ہضم کرلیا گيا اور اس سے آگے کی عبارت کو بالکل حذف کردیا گيا کیوں۔۔؟؟؟یہ سوال آپ نے حل کرناہے۔
رضاخانی تحریف10
ملفوظات کی اصل عبارت
مولوی احمد رضاخان نے ملفوظات کے صفحہ 221 حصہ دوم میں کھانے پر بسم اللہ بھول جانے پھر یاد آنے کی دعا غلط بتائی جو اس طرح ہے ”بسم اللہ علی اولہ و اخرہ“ حالانکہ صحيح دعا ”بسم اللہ اولہ وآخرہ“ ملفوظات کے تمام ایڈیشنز میں یہ دعا اسی طرح موجود ہے ۔جدید ایڈیشن میں ”آلہ حضرت“ کی اصلاح کرتے ہوئے اس دعا کوصحيح لکھ دیا گےا ہے ۔ملاحظہ ہو ملفوظات حصہ دوم ص294۔
رضاخانی تحریف 11
ملفوظات کی اصل عبارت
مولوی احمد رضان خان ایک جگہ ملفوظات میں علمائے اہلسنت سے اپنے بغض کا اظہار یوں فرماتے ہیں کہ
ايسے ہی وہابی ،قادیانی،دیوبندی ،نیچری ،چکڑالوی،جملہ مرتدین ہیں کہ ان کے مرد یا عورت کاتمام جہاں میں جس سے نکاح ہوگا مسلم ہو یا کا فر اصلی یا مرتد انسان ہو یا حيوان محض باطل اور زنا خالص ہے۔﴾ملفوظات حصہ دوم ،ص227﴿
غور فرمائیں یہاں احمد رضاخان پر دیوبند سے دشمنی کاایسا خبط سوار ہوا کہ ہیجانی کیفیت میں یہاں تک کہہ گئے کہ ان کا نکاح ”جانور“ سے بھی نہیں ہوتا۔گويا احمد رضاخان صاحب کے مذہب میں جانوروں سے نکاح حلال و جائز ہے اس لئے دیوبندیوں پر حرام فرمارہے ہیں۔
بریلوی دعوت اسلامی کے غازيوں کا کارنامہ
دعوت اسلامی کے غازيوں نے احمد رضاخان کے اس شرمناک فتوے پر پردہ ڈالے کیلئے اس لفظ کوحذف کردیا اور اب عبارت اس طرح ہے کہ :
ايسے ہی وہابی ،قادیانی،دیوبندی ،نیچری ،چکڑالوی،جملہ مرتدین ہیں کہ ان کے مرد یا عورت کاتمام جہاں میں جس سے نکاح ہوگا مسلم ہو یا کا فر اصلی یا مرتد محض باطل اور زنا خالص ہے-ملفوظات حصہ دوم ص 300
غور فرمائیں کہ ”انسان ہو یاحيوان“ کوحذف کردیا گيا کیوں۔۔فیصلہ آپ نے کرنا ہے۔
رضاخانی تحریف12
ملفوظات کی اصل عبارت
حضرت سےدی احمد بدوی کبیر کے مزار پر بہت بڑامیلہ اور ہجوم ہوتا تھا۔اس مجمع میں چلے آتے تھے ایک تاجر کی کنیز پر نگاہ پڑی فورا نگاہ پھیر لی کہ حديث میں ارشاد ہوا النظرة الاولی لک والثانیة علیک پہلی نظر تيرے لئے ہے اور دوسری تجھ پر یعنی پہلی نظر کاکچھ گناہ نہیں اور دوسری کامواخذہ ہوگا ۔خیر نگاہ توآپ نے پھیر لی مگر وہ آپ کو پسند آئی جب مزار شریف ہر حاضر ہوئے ارشاد فرمایا عبد الوہاب وہ کنیز پسند ہے عرض کی ہاں اپنے شیخ سے کوئی بات چھپانا نہ چاہئے ارشاد فرمایا اچھا ہم نے تم کو وہ کنیزہ ہبہ کی۔اب آپ سکوت میں ہیں کہ کنیز تو اس تاجر کی ہے اور حضور ہبہ فرماتے ہیں معا و ہ تاجر حاضر ہوا اور اس نے وہ کنیز مزار اقدس کی نذر کی۔خادم کو اشارہ ہوا انھوں نے آپ کی نذر کردی ارشاد فرمایا عبد الوہاب اب دیر کاہے کی فلاں حجرے میں لے جاؤ اور اپنی حاجت پوری کرو۔﴾ملفوظات حصہ دوم ،ص 273,274﴿
قارئین کرام غور فرمائیں اس من گھڑٹ حکايت سے کس طرح یہ باور کروایا جارہا ہے کہ ولی ایک کنیز پر عاشق ہوگيا وہ بھی کسی اور کی پھر غورفرمائیں وہ تاجر اس کنیز کو مزار کی نذر کرتا ہے حالانکہ شرعی طور پر یہ وقف جائز نہیں کہ مزار میں ”ملکیت“ کی شرط نہیں پائی جاتی گويا ہبہ غير شرعی پھر غور فرمائیں اس غير شرعی ہبہ کو آگے پھر ہبہ کیا جاتاہے اور کہاکہ فلاں حجرے میں لے جاؤگويا مزار نہ ہوا عورتوں کی خرید و فروخت کا کوئی مرکز ہوگيا۔بجائے یہ کہ بریلوی حضرات اس بيہودہ حکایت سے برات کااظہار کرتے ۔بریلویوں نے سرے سے اس ملفوظ کو ہی غائب کردیا۔
بریلوی دعوت اسلامی کے غازیوں کا کارنامہ
جدید ایڈیشن میں اس پوری عبارت کوہی حذف کردیا گيا ہے۔ملاحظہ ہو حصہ دوم ص 361۔

رضاخانی تحریف13
ملفوظات کی اصل عبارت
سیدی محمد بن عبد الباقی زرقانی فرماتے ہیں کہ انبیاءعلیھم الصلوة والسلام کی قبور مطہرہ میں ازواج مطہرات پیش کی جاتی ہیں اور وہ ان سے شب باشی فرماتے ہیں۔﴾ملفوظات حصہ دوم ،ص 276﴿
غور فرمائیں ازواج مطہرات کا پیش کرناظاہرہے یہ پیش کرنااللہ ہی طرف سے ہوگا اور پھر الفاظ پر غور فرمائیں”شب باشی فرماتے ہیں“ اگر میں کہوں کہ احمد رضاخان صاحب کی بیگم صاحبہ کو ان کے والد احمد رضاخان کی قبر میں پیش فرماتے ہیں تاکہ وہ ان سے شب باشی کرسکیں یا کسی کمرے میں ان کے والد صاحب ان پر پیش فرماتے تھے اور وہ ان سے شب باشی کرتے تھے تو بریلوی حضرات شور کریں گے کہ آپ ہمارے حضرت کی گستاخی فرمارہے ہیں۔
جدید ایڈیشن میں اس گستاخی پر ایسا پردہ ڈالا گيا کہ باوجودکوشش کے بھی اب یہ عبارت آپ کونہیں ملے گی۔
دعوت اسلامی کے غازيوں کاکارنامہ
ملفوظات حصہ دوم ص 263 پر یہ ملفوظ موجود ہے مگر متنازعہ عبارت کوحذف کردیا گياہے۔
رضاخانی تحریف 14
ملفوظات کی اصل عبارت
عرض:یہ دعا کہ اللہ وہابيوں کو ہدايت کرے جائز ہے یا نہیں
ارشاد:وہابیہ کیلئے دعافضول ہے ۔﴾ملفوظات ،حصہ دوم ،ص 286﴿
غور فرمائیں احمد رضاخان صاحب بغض میں کس قدر آگے چلے گئے کہ اپنے ماننے والوں کو یہ تعلیم دے رہے ہیں کہ ان کیلئے ہدايت کی دعا بھی نہ کروحالانکہ بڑے سے بڑے کافر کے لئے اسلام کی تعلیمات یہ ہیں کہ اس کاہدايت پاجانا سرخ اونٹوں کے ملنے سے بہتر ہے حضور ﷺمصلی پر بيٹھ کر ابوجہل جسے امت کے فرعون کالقب ملا کیلئے ہدايت کی دعا رو رو کررہے ہیں مگر احمد رضاخان کے دل کابغض ديکھیں۔
بریلوی دعوت اسلامی کے غازيوں کا کارنامہ
موجودہ بریلوی حضرات نے اس سراسر غير اسلامی ملفوظ کو ملفوظات سے نکال دیا ہے ملاحظہ ہو ص374۔
رضاخانی تحریف15
ملفوظات کی اصل عبارت
مولوی احمد رضاخان صاحب فرماتے ہیں کہ
امنت بالذی امنت بہ بنواسرائیل میں ایمان لایا اس پر جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے
ایک طرف توبریلوی احمد رضاخان صاحب کے بارے میں یہ کہتے ہیں کہ ان کے حافظے کا یہ عالم تھا کہ چودہ سو سال کی کتابيں حفظ تھيں ان کا قلم نکتہ برابر خطا کرجائے اللہ نے ناممکن بناديا دوسری طرف ان کو قرآن بھی صحيح طور پر یاد نہ تھااور اکثر اپنی کتابوں میں غلط آیا ت لکھ ديتے تھے بلکہ ان کے کمزور حافظے پر تو باقاعدہ کتابيں لکھی گئی ہیں۔اب اسی آیت کودیکھ لیں سورہ یونس کی اس آیت کوغلط لکھا گيا اسمیں کتابت کی غلطی کا بہانہ بھی نہیں چلے گا اس لئے کہ ملفوظات کے تمام ایڈیشنز میں یہی غلطی ہے پھر ترجمہ بھی اسی غلط آیت کے مطابق کیا گيا ہے۔
بریلوی دعوت اسلامی کے غازیوں کا کارنامہ
موجودہ بریلوی حضرات نے اس آیت اور اس کے ترجمہ کوٹھيک کرکے اپنے ”اعليحضرت“ کی اصلاح فرمادی مگر بڑی خاموشی کے ساتھ جو اچھی بات نہیں۔ملاحظہ ہو ملفوظات ،حصہ سوم ، ص ۸۸۳ ،مکتبة المدینہ۔
رضاخانی تحریف 16
اصل ملفوظات کی عبارت
میں نے خود دیکھا گاؤں میں ایک لڑکی18 یا 20 برس کی تھی ماں اس کی ضعیفہ تھی اس کا دودھ اس وقت تک نہ چھڑايا تھا ماں ہر چند منع کرتی وہ زور آور تھی بچھاڑتی اور سينے پر چڑھ کر دود ھ پینے لگتی ۔﴾ملفوظات حصہ دوم ص311﴿
احمد رضاخان کے اس ملفوظات کو پڑھ کر ایک عام قاری کے ذہن میں یقینا یہ سوالات آئیں گے کہ:
(۱) آخر ایک ضعیف عورت کواٹھارہ بيس سال تک دود ھ کیسے آتا رہا؟۔
(۲) اٹھارہ بيس برس کی لڑکی کیا کسی کی گود میں بيٹھ کر دودھ پی سکتی ہے وہ بھی ایک ضعیف عورت کی گود میں؟۔
(۳) احمد رضاخان کے اس گھرانے سے ايسے کیا تعلقات تھے کہ ان کے بارے میں اس قدر معلومات؟۔
(۴) کیا ان غير محرمات کے اس لڑائی جھگڑے کو دیکھنا شرعا جائز تھا؟۔
(۵) کیا شرعی طور پر احمد رضاخان کو یہ حق حاصل تھا کہ وہ ایک نامحرم عورت کے سينے کودود ھ پلاتے ہوئے دیکھے؟۔
غرض اس قسم کے بہت سے سوالات احمد رضاخان صاحب کی ”پاکیزہ زندگی“ کی حقيقت کھولنے کیلئے ایک عام قاری کے ذہن میں آسکتے تھے ۔موجودہ بریلوی حضرات نے احمدرضاخان کی اس غير شرعی شرمناک اور بد نظری پر مشتمل واقعہ پر اس طرح پردہ ڈالا کہ اس عبارت کو ہی ختم کردیا گيا۔تاکہ نہ رہے عبارت اور نہ رہے یہ سوال۔
بریلوی دعوت اسلامی کے غازيوں کا کارنامہ
موجودہ ایڈیشن حصہ دوم ص 405 سے اس شرمناک عبارت کو ختم کردیا گيا۔۔کیوں۔۔؟؟؟
رضاخانی تحریف17
ملفوظات کی اصل عبارت
ایک صاحب اولیائے کرام میں سے تھے آپ کی خدمت میں بادشاہ وقت قدم بوسی کیلے حاضر ہوا حضور کے پاس کچھ سب نذر میں آئے تھے۔حضور نے ایک سیب ديا اور کہا کھاؤ عرض کی حضور بھی نوش فرمائیں آپ نے بھی کھائے اور بادشاہ نے بھی ۔اسوقت بادشاہ کے دل خطرہ آیا کہ یہ جو سب سے بڑا اچھا سيب ہے اگر اپنے ہاتھ سے اٹھا کر مجھ کو ديدیں گے تو جان لوں گا کہ ولی ہیں۔آپ نے وہی سیب اٹھا کر فرمایا ہم مصر گئے تھے وہاں ایک جلسہ بڑا بھاری تھا دیکھا ایک شخص ہے اس کے پاس ایک گدھا ہے اس کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہے ایک چیز ایک شخص کی ایک دوسرے کے پاس رکھ دی جاتی ہے۔اس گدھے سے پوچھا جاتا ہے گدھا ساری مجلس میں دورہ کرتا ہے جس کے پاس ہوتی ہے سامنے جاکر سر ٹيک ديتا ہے ۔یہ حکایت ہم نے اس لئے بيان کی کہ اگر یہ سيب ہم نہ دیں تو ولی ہی نہیں اور اگر ديديں تو اس گدھے سے بڑھ کر کیا کمال دکھايا ۔یہ فرماکر سيب بادشاہ کی طرف پھینک دیا۔بس یہ سمجھ گئے کہ وہ صفت جوغير انسان کیلئے ہوسکتی ہے انسان کیلئے کمال نہیں اور جو غير مسلم کیلئے ہوسکتی ہے مسلم کیلئے کمال نہیں۔﴾ملفوظات حصہ چہارم،ص342،343﴿
مولوی احمد رضاخان صاحب کے اس ملفوظ سے چند باتيں معلوم ہوئیں اول یہ کہ بریلویوں کے گدھے کو بھی علم غيب ہوتا ہے ،دوم مولوی احمد رضاخان صاحب اس میں فرماتے ہیں کہ علم غيب اور غيب کی باتيں تو جانوروں اور غير مسلموں کو بھی ہوجاتی ہیں۔
اگر ایسا ہی ہے تو نہ معلوم بریلوی حضرات اولیائے کرام اور انبياءعظام علیہم الصلوة والسلام کو ”غيب دان “ مان کر کون سے عشق کا ثبوت دے رہے ہیں؟؟؟ اور نہ ماننے والوں پر طرح طرح کے فتوے لگاتے ہیں۔یہ کونسی فضیلت ہے جس میں کافر تو کیا حيوان بھی برابر ہيں؟؟؟۔
بریلوی دعوت اسلامی کے غازيوں کا کارنامہ
شائد اسی وجہ سے بریلوی حضرات کو اپنے ”آلہ حضرت“ کایہ ملفوظ کچھ پسند نہ آیا اور جدید ایڈیشن میں اس ملفوظ کو ”ہضم “ کرگئے ۔ ملاحظہ ہو ملفوظات حصہ چہارم ص 441۔
رضاخانی تحریف 18
احمد رضاخان کے خلیفہ مولوی ابو الحسنات قادری اپنی کتاب اوراق غم میں ایک جگہ حضرت آدم علیہ السلام کی توہین کرتے ہوئے لکھتاہے کہ :
وہ آدم جو سلطان مملکت بہشت تھے وہ آدم جو متوج بتاج عزت تھے آج شکار تےر مذلت ہیں۔
(اوراق غم ،ص ۲ ،طبع اول 1348 ھ مطبوعہ منظور عام سٹيم پریس بازار پیسہ اخبار سٹريٹ لاہور)
چونکہ بریلوی حضرات کے نزدیک کسی بھی قسم کی تاویل جائز نہیں اور الفاظ کا جو ظاہر مفہوم ہوگا وہی معنی مراد لیا جائے گا اور یہاں حضرت آدم علیہ السلام کیلئے ”مذلت“ کا لفظ استعمال کیا گیا جو بریلوی مذہب میں انبياءکی شدید گستاخی پر مبنی ہے لہٰذا س گستاخی کی بنیاد پر بجائے پیر حسنات پر کفر کافتوی لگانے کے بریلویوں نے اس پوری عبارت میں تحریف کردی اور ضیاء القرآن کے غازیوں نے جو اوراق غم شائع کی اس میں یہ عبارت اس طرح نقل کی:
وہ آدم جو سلطان مملکت بہشت تھے وہ آدم جو متوج بتاج عزت تھے آج مصائب میں مبتلاہیں ۔ (اوراق غم، ص 11،ضیاءالقرآن پبلیکیشنز لاہور،جنوری 2008رضاخانی تحریف 19
احمد رضاخان کے ترجمے پر رضاخانی مذہب کے حکیم جی احمد یار گجراتی نے تفسیری حاشیہ لکھا اسے ”پیر بھائی پرنٹرز “ نے طبع کراکے ادارہ کتب اسلامیہ چوک گجرات سے سے شائع کرایا اس میں ایک جگہ احمد یار گجراتی صاحب شیطان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:
کیونکہ میں پرانا صوفی ،عالم ،عابد ،فاضل دیوبند ہوں اور آدم علیہ السلام ابھی نہ کچھ سیکھا نہ عبادت کی۔
تفسیر نور العرفان ،پارہ 23 ،سورہ ص،حاشیہ 8،ص 730
احمد یار گجراتی نے یہاں شیطان کو ”فاضل دیوبند“ کہہ کر جس اخلاقی پستی اور تعصب کااظہار کیا ہے اس پر ہم بھر پور تبصرہ کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں لیکن فی الحال اس وقت یہ موضوع نہیں ۔اب جو نعیمی کتب خانے والوں نے ”نور العرفان “ شائع کی اس میں
”فاضل دیوبند“ کے الفاظ نکال دئے گئے ہیں ۔عبارت ملاحظہ ہو:
کیونکہ میں پرانا صوفی،عابد،عالم فاضل ہوں اور آدم علیہ السلام نے ابھی نہ کچھ سیکھا نہ عبادت کی ۔
(نور العرفان،ص 550، نعیمی کتب خانہ گجرات)
احمد یار گجراتی کی آل و اولاد کی طرف سے شیطان کیلئے”فاضل دیوبند“ کے الفاظ کو نکال دینا اس بات کا اقرار ہے کہ احمد یار گجراتی نے محض شیطان سے اپنی پرانی یاری کے اظہار اور علمائے دیوبند کے تعصب میں تفسیر کے اندر اتنا بڑا جھوٹ بولا کہ بعد کے بریلویوں نے بھی اس جھوٹ پر شرمندہ ہوکر اس لفظ کو ہی نکال دیا کہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔
رضاخانی تحریف20
اسی نور العرفان میں ایک جگہ بریلوی مذہب کے یہ حکیم جی نبی کریم ﷺ کی گستاخی کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ معاذ اللہ نبی کریم ﷺ بتوں کے نام پر ذبح ہونے والا مرداڑ گوشت کھالیا کرتے تھے ۔عبارت ملاحظہ ہو:
حضور نے نبوت سے پہلے بھی بتوں کے نام کا ذبیحہ کھایا۔(نور العرفان ،پارہ 15،سورہ کہف ،حاشیہ14،ص 799، نعیمی کتب خانہ)
اب ذرا ’پیر بھائی کمپنی“ کے غازیوں کاکارنامہ بھی ملاحظہ فرمائیں:
حضور نے نبو ت سے پہلے بھی بتوں کے نام کا ذبیحہ نہ کھایا ۔(نو ر العرفان ،ص 471، پیر بھائی کمپنی لاہور)
غور فرمائیں اصل عبارت میں ”نہ “ نہیں تھا مگر بریلویوں نے اس گستاخی پر پردہ ڈالنے کیلئے کتنی بڑی تحریف کا ثبوت دیا مگر افسوس کہ خدا خوفی سے لاپرواہ ہوکراتنی بڑی علمی خیانت کرنے کے باوجود بھی چوری پکڑی گئی۔
رضاخانی تحریف21
1942میں بریلویوں نے احمد رضاخان کا ایک فتوی ”الدلائل القاہرہ“ کے نام بمبئی سے شائع کرایا جس میں ”آل انڈیا محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس “ اور ”مسلم لیگ“ کے بارے میں سوال کیا گیا تھا (ص ۳) کہ ان کی مدد کرنا یا اس جماعت میں شامل ہونا کیسا ہے۔۔؟؟اس فتوے پر احمد رضاخان سمیت 80 بریلوی علماءکے دستخط ہیں جس میں مسلم لیگ کے بانی اور ان کی جماعت پر کفر کا فتوی لگایاگیا اور ان کی امداد و نصرت کوحرام قرار دیا گیا ۔مگر اب ”رضا فاونڈیشن“ کے غازیوں کا کارنامہ بھی دیکھتے جائیں کہ انھوں نے ایران توران سے مواد جمع کرکيااحمد رضاخان کے فتاوے کا مجموعہ 30جلدوں میں شائع کرایا ۔جلد 15میں اس فتوے کو اسی نام کے ساتھ شائع کیا گیا مگر آل انڈیا محمڈن کا نام تو رہنے دیا اور اپنی دیانت کاثبوت دیتے ہوئے ”مسلم لیگ“ کانام نکال دیا گیا ۔ملاحظہ ہو ص 103 ،104 جلد 15 تف ہے ایسی دیانت پر۔
نوٹ:بریلویوں نے تقسیم ہند سے پہلے مسلم لیگ کے خلاف ”مسلم لیگ کی زریں بخیہ دری“،”الجوابات السنیہ“ ”احکام نوریہ شرعیہ“ ”تجانب اہلسنت“نامی فتاوے شائع کروائے جس میں قائد اعظم محمد علی جناح کو جہنم کا کتا، رافضی کافر، اور مرتد کہا گیا اور مسلم لیگ کی مدد نصرت واعانت کو حرام قرار دیاگیا۔۔کوئی رضاخانیوں سے پوچھے کہ وہ آج اپنے اکابرین کا یہ ”علمی سرمایہ“ کیوں عوام کے سامنے نہیں لارہے ہیں۔۔۔؟؟؟دلائل کے میدان میں شکست کھاجانے کے بعد اب تم ”راہ سنت“ کے خلاف جھوٹے پرچے کٹواتے ہو کہ یہ فوج اور پاکستانی مفادات کے خلاف مواد شائع کرتے ہیں مگر اپنے اکابرین کی یہ سیاہ تاریخ تمھیں نظر نہیں آتی۔۔؟؟جنھوں نے کھل کر پاکستان کی مخالفت کی ۔۔۔محمد علی جناح کو جہنم کا کتاکہا۔۔۔مرتد کہا بلکہ یہاں تک کہا کہ قائد اعظم کی تعریف کرنے سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے۔۔۔شرم۔۔شرم۔۔۔شرم۔۔

رضاخانی تحریف22
سید محمداسمعیل شاہ صاحب کو عبد الحکیم شرف قادری نے اپنے اکابرین میں شمار کیا ہے ۔دیکھئے تذکرہ اکابر اہلسنت ص 429،430۔
ان کی سوانح حیات ”معدن کرم“ کے نام سے شائع ہوئی ۔اس میں ایک جگہ ان کے تحصیل علوم کی تفصیل لکھتے ہوئے سوانح نگار رقمطراز ہیں کہ:
مدرسہ مظاہر العلوم میں ان دنوں مولانا خلیل احمد رحمةاللہ علیہ صدر مدرس تھے۔وہاں سے تکمیل علم کی سند حاصل کرکے آپ نے دہلی میں مدرسہ مولوی عبد الرب میں داخل ہوکر شیخ الحديث مولانا عبد العلی صاحب قاسمی جیسے متبحر عالم سے دورہ حدیث ختم کیا۔
(معدن کرم ،ص160،المطبة العربیہ پریس،1419ھ)
اب جو معدن کرم کاجدید ایڈیشن شائع کیا گیا ہے اس میں اس عبارت کواس طرح بدل دیا گیا ہے:
مدرسہ مظاہر العلوم سے تکمیل علم کی سند حاصل کرکے آپ نے دہلی میں مدرسہ مولوی عبد العلی رحمة اللہ علیہ میں داخل ہوکر وہاں دورہ حدیث ختم کیا۔(معدن کرم ،ص 451،دوسرا نیا ایڈیشن)
رضاخانیو!!! آخر کب تک اپنی کتابوں میں اس قسم کی یہودیانہ تحریفات کرکے حق کو چھپاتے رہو گے؟؟؟ یہ مذموم حرکتیں کرکے اپنی ناخواندہ عوام کی آنکھوں میں تو دھول جھونک سکتے ہو ۔۔مگر حق والوں کے سامنے تمہارا یہ دجل و فریب ہر گز نہیں چل سکتا۔
سید اسمعیل شاہ صاحب کا مظاہر العلوم میں علوم دینیہ حاصل کرنااور پھر مدرسہ مولوی عبد الرب سے علوم دینیہ کی تکمیل کرنا عبد الحکیم شرف قادری کو بھی مسلم ہے ملاحظہ ہو تذکرہ اکابر اہلسنت ،ص429۔
رضاخانی تحریف23
اسی کتاب میں حضرت شیر محمد شرقپوری صاحب اور علمائے اہلسنت دیوبند کے تعلقات کے متعلق ذکرکرتے ہوئے ایک واقعہ لکھتے ہیں کہ:
حکیم محمد اسحق مزنگ والے فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت حضرت سید نور الحسن شاہ بخاری رحمة اللہ علیہ حکیم صاحب اور ایک ساتھی حضرت میاں صاحب ؒ کے حکم کے مطابق دیوبند گئے اور شیخ الحدیث حضرت مولانا انور شاہ کشمیری رحمة اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ جب حضرت مولانا رحمة اللہ علیہ کو معلوم ہوا کہ یہ حضرات شرق پور سے تشریف لائے ہیں تو بےساختہ فرمایا۔”وہ جہاں اللہ کا شیر رہتا ہے۔ تمنا ہے کہ ان کی خدمت میں حاضر ہوکر شرف نیاز حاصل کروں چنانچہ وہ حضرت قبلہ کی حاضری کیلئے شرق پور تشریف لائے اور بوقت روانگی حضرت قبلہ ؒسے پیٹھ پر بغرض حصول فیوض و برکات ہاتھ پھیرنے کی خواہش فرمائی اور خوشی خوشی رخصت ہوئے ۔ معدن کرم ، ص137
مگر افسوس بریلویوں کی دیانت پر کہ جدید ایڈیشن میں اس پورے واقعہ اور پیرا گراف کو نکال دیا گیا ہے ۔ملاحظہ ہو ص 423 معدن کرم دوسرا نیا ایڈیشن۔حضرت شیر محمد شرقپوری صاحب اور حضرت انور شاہ صاحب کشمیری رحمة اللہ علیہ کی ملاقات کا یہ واقعہ ”خزینہ معرفت“ میں بھی دیا گیا ہے مگر موجودہ بریلویوں نے جدید ایڈیشن میں ہاتھوں کا کرتب دکھاتے ہوئے اس واقعہ کو ہضم کرلیا جس کا حوالہ ماقبل میں گزرچکاہے۔
رضاخانی تحریف 24
معدن کرم کے سابقہ ایڈیشن میں مصنف کتاب کی ایک عبارت یوں تھی:
فضائل حج مولف مولانا الحافظ المحدث محمد زکریا صاحب شیخ الحدیث مدرسہ مظاہر العلوم کی ورق گردانی کرنے لگا۔
(معدن کرم ص )
اب جدید ایڈیشن میں بریلویوں نے اپنی عادت محرفہ سے مجبور ہوکر اس عبارت میں اس طرح تحریف کرکے حق کو دھندلا کرنے کی کوشش کی:
فضائل حج کی ورق گردانی کرنے لگا۔(معدن کرم ، ص ۱۱۵)
غور فرمائیں ”مولف مولانا الحافظ المحدث محمد زکریا صاحب شیخ الحدیث مدرسہ مظاہر العلوم “کی پوری عبارت کو بنا ڈکار لئے ہضم کرلیا گیا لیکن ہم بھی انشاءاللہ یہ اتنی آسانی سے ہضم نہیں کرنے دیں گے۔

رضاخانی تحریف25
بریلوی خطیب پاکستان شفیع اوکاڑوی نے سیاہ خضاب کی حلت پر ایک کتابچہ ”مسئلہ سیاہ خضاب“ لکھا اور ضیاءالقرآن پبلیکیشنز والوں نے شائع کروایا اس کتابچے کا جواب الجواب بریلوی مذہب کے حکیم جی احمد یار گجراتی کے لڑکے اور جانشین اقتدار احمد خان نے ”حرمت سیا ہ خضاب“ کے نام سے لکھا اس میں شفیع اوکاڑوی صاحب کی خیانتوں اور تحریفات کا ذکر کرتے ہوئے ایک جگہ حدیث رسول ﷺ میں شفیع اوکاڑوی صاحب کی لفظی تحریف کی نشاندہی کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
اب اندازہ لگاو کہ صرف اپنے باطل جھوٹے بے ہودہ مذہب کو بچانے کیلئے حدیث مبارکہ کے اصل لفظ مٹا کر جنبوہ کردیا۔ اسی کو ابلیسی شرارت کہتے ہیں۔دنیوی اعتبار سے کتنا آسان ہے کہ جس حدیث کو چاہا توڑ پھوڑ دیا اور اپنا جھوٹا مذہب بنا لیا۔
حرمت سیاہ خضاب ،ص 121
غور فرمائیں جولوگ نبی کریمﷺ کی احادیث میں تحریف کردینے سے نہ شرمائیں ان سے اپنے اکابرین کی کتابوں میں تحريفات کردینے پر گلہ کرنا ہی فضول ہے۔
رضاخانی تحریف26
اسی کتاب میں ایک جگہ شفیع اوکاڑوی صاحب کی طرف سے موطا امام مالک کی ایک عبارت کا جواب دیتے ہوئے ان کی بد دیانتی کا گلہ ان الفاظ میں کیا جاتا ہے :
مصنف نے اپنی پیش کردہ عبارت میں لفظی خیانت کے علاوہ ترجمہ بھی غلط کیا۔معلوما کا ترجمہ قطعی روايت کرتے ہیں اور اگلی پچھلی عبار ت جو ان کے مخالف ہے اس کو چھوڑ جاتے ہیں۔(حرمت سیاہ خضاب ،ص 60،نعیمی کتب خانہ ،2009)۔
رضاخانی تحریف 27
بڑہیچ قبيلے کے خان جی احمد رضاخان صاحب نے حدائق بخشش نامی نعتیہ کتاب لکھی جس کے تین حصے ہیں۔اس کا اول اور دوم حصہ تو مل جاتا ہے اور تیسرا حصہ عام نہیں ملتا ۔اس میں خان صاحب یہ عنوان قائم کرتے ہیں:
قصیدہ در مناقب ام المومنین محبوبہ سید المرسلین حضرت سیدنا صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ
پھر اس سلسلہ میں یہ بھی کہتے ہیں
تنگ وچست ان کا لباس اور وہ جوبن کا ابھار مسکی جاتی ہے قبا سر سے کمر تک لے کر
یہ پھٹا پڑتا ہے جو بن میرے دل کی صورت کہ ہوئے جاتے ہیں جامہ سے بیروں سینہ و بر
حدائق بخشش ،حصہ سوم ص 37
ان گستاخانہ اور انتہائی دل آزار اشعار پرجب اہلسنت کی طرف سے اعتراض ہوا تو بجائے اس پر توبہ کرنے کے۔۔ احمد رضاخان پر کوئی فتوی لگانے کے بریلویوں نے بدترین خیانت اور بددیانتی کامظاہرہ کرتے ہوئے اس حصہ کو ہی غائب کردیا اور اسے چھاپنا بند کردیا اور یہ مشہور کردیا کہ یہ حصہ مولوی احمد رضاخان صاحب کا ہے ہی نہیں حالانکہ بریلوی اکابرین نے حدائق بخشش حصہ سوم کو احمد رضاخان کے اشعارکامجموعہ تسلیم کیا ہے ملاحظہ ہو:
(حیات امام اہلسنت ،ص49،مشرق کا فراموش کردہ نابغہ،ص22،امام احمد رضا اور علوم جدیدہ و قدیمہ ،ص 52،53،عبقر ی الشرق ،ص 52عاشق الرسول مولانا عبد القادری بدیوانی ،ص 17،18
ہمارا سوال ہے کہ بریلویوں سے کہ وہ کیوں علمی خیانت اور تحریف کے مرتکب ہوکر اس کتاب کو عام شائع نہیں کرتے ؟؟؟۔

رضاخانی تحریف28
ایک رضاخانی رسالے کے کچھ صفحات فقیر کی نظر سے گزرے جس میں ایک جگہ شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا رحمة اللہ علیہ کی فضائل صدقات ص 340 کا حوالہ دے کر کہا گیا کہ انھوں نے ایک حدیث نقل کی اس میں رسول ﷺ کا لفظ بھی تھا مگر حضرت شیخ الحدیث نے اس کو نقل نہیں کیا یہ تحریف ہے اور اس بنیاد پر انھیں معاذ اللہ ”خبیث دیوبندی“اور ”شیطانی توحید“ والا کہا گیا۔۔حالانکہ اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ یہ لفظ کاتب سے رہ گیا ہو کاتب کوئی بریلوی ہو جس نے یہ ”خباثت“ کی ہو یہ بھی احتمال ہے کہ حضرت شیخ الحدیث رحمة اللہ علیہ وہاں روايت بالمعنی کررہے ہوں اور روايت بالمعنی کیلئے تمام الفاظ کا بعینہ نقل کرنا ضروری نہیں۔۔یہ بھی احتمال ہے کہ حضرت شیخ الحدیث رحمة اللہ علیہ سے یہ لفظ سہوا رہ گیا ہو چنانچہ مولوی نصیر الدین سیالوی بریلوی لکھتا ہے کہ :
حضرت عمر ؓ کی بزرگی جلالت علمی قوت حافظہ کو تو سارے تسلیم کرتے ہیں بلکہ سارے اولیاءکرام بھی ان کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتے ان کا واقعہ بخاری شریف میں منقول ہے کہ جب ایک آدمی نے ان سے پوچھا کہ میں جنبی ہوں گایا ہوگیا ہوں اور پانی دستےاب نہیں کیامیں تیمم کرسکتا ہوں حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ جب تک پانی نہ ملے نماز نہ پڑھو تمہار ے لئے تیمم کی اجازت نہیں حضرت عمار بن یاسر نے یا د دلایا کہ میں اور آپ اکھٹے تھے ہمیں جنابت لاحق ہوگئی تھی تو آپ نے نماز نہیں پڑھی تھی جب کہ میں نے زمین میں لوٹ پوٹ ہوکر پورے جسم کو مٹی میں ملوث کردیا تھااس کے بعدحضور علیہ السلام نے مجھے تیمم کا طریقہ سکھایا تھا۔حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ مجھے تو یا د نہیں ہے۔(بخاری شریف ،ج1، ص84)
حضرت عمر جیسی ہستی کو جب نسیان ہوسکتا ہے تو بعد میں آنے والوں کو جو ان کی گردراہ کو بھی نہیں پاسکتے نسیان کیوں نہیں ہوسکتا۔ (عبارا ت اکابر کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ ،حصہ اول ،ص 393)
غور فرمائیں یہاں نصیرالدین سیالوی صاحب یہ کہنا چاہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نسیان کے مریض تھے معاذ اللہ جس کی وجہ سے ان کو اپنی ہی بیان کردہ حدیث یاد نہیں رہی توکیا آج کے یہ رضاخانی ملاں جو محض علمائے اہلسنت سے تعصب کی بنیاد پر حدیث میں صرف ایک لفظ رہ جانے کی وجہ سے حضرت شیخ الحدیث رحمة اللہ علیہ کو معاذ اللہ ”خبيث “ جیسے الفاظ سے ياد کررہے ہیں وہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ پر کیا فتوی لگائیں گے۔۔۔؟؟؟کیا ان میں اتنی اخلاقی جرات ہے کہ حضرت عمر ضی اللہ تعالی عنہ پر بھی ایک مضمون اسی قسم کا لکھ دیں اور اسی قسم کا تبصرہ ان پر بھی کردیں ۔۔۔؟؟؟
صداقت لا نہیں سکتی تاب مصلحت کوشی
جو کچھ کہنا ہو بے باکانہ کہئے برملا کہئے
اگر کسی حدیث کو بیان کرنے میں کوئی لفظ چھوٹ جانا معاذ اللہ خباثت اور شیطانیت کی علامت ہے تو آئے ہم ثابت کرتے ہیں کہ سب سے بڑا خبيث اور شیطان کون ہے۔
مولوی احمد رضاخان نے ایک حدیث یوں نقل کی:
رواہ الامام محمد فی کتاب الآثار قال اخبرنا ابو حنیفة و رواہ عبد الرزاق فی مصنفہ (الی ان قال)عن عائشة رضی اللہ عنھا انھا امراة یکدون راسھا بمشط ۔۔(فتاوی رضویہ ج9ص165)
اس حدیث کے نقل کرنے میں احمد رضاخان نے جس خطرناک غلطی اور تحریف کا ارتکاب کیا ہے اسکی نشاندہی خود بریلوی مولوی نذیر احمدسعیدی نے ان لفظوں میں کی ہے
کتاب الآثار اور مصنف عبد الرزاق دونوں کتابوں میں بمشط کا لفظ نہیں ہے بلکہ کتاب الآثار میں رات میتتا یسرح راسھا اور مصنف میں رات امراة یکدون راسھا ہے(حوالہ مذکورہ بالا)
رضاخانی تحریف29
ایک اور حدیث خان جی ان الفاظ میں نقل کرتے ہیں:
فصففنا خلفہ صفین ومانری شیئا(فتاوی رضویہ مج9،ص 350)
اس حدیث میں احمد رضاخان صاحب المختار کی جانب سے تحریف و تبدیلی کی نشاندہی مولوی سعیدی ان الفاظ میں کرتا ہے
معجم کبیر میں مجمع ابن جاریہ کی حديث کے تحت بحوالہ ابن ابی شیبہ حدیث کے الفاظ یوں ہیں:
فصففنا خلفہ صفين اس میں ما نری شیئاکے الفاظ نہیں ہیں ملاحظہ ہو معجم کبیر حديث نمبر 1086،ج19،ص 446۔
(حوالہ مذکورہ بالا)
رضاخانی تحریف 30
ایک اور حدیث خان صاحب یوں تحریر کرتے ہیں
رسول فرماتے ہیں من دعا الی الھدی فلہ اجرہ و اجر من تبعہ (فتاوی رضویہ ج5،ص 385)
اس حديث میں تحریف کی نشاندہی کرتے ہوئے مولوی نذیر لکھتے ہیں
نوٹ:مسلم شریف کے الفاظ یوں ہیں من دعا الی الھدی کان لہ من الاجر مثل اجور من تبعہ لا ینقص ذالک من اجورھم شیئا۔(حوالہ مذکورہ بالا)
رضاخانی تحریف 31
ایک اور جگہ احمد رضاخان مسند احمد سے عن معاذ ابن جبل ؓ کی ایک روايت نقل کرتے ہیں کہ
ما من شیءانجی من عذاب اللہ من ذکر اللہ رواہ الامام احمد عن معاذ بن جبل۔۔۔ (رضویہ ج 5 ص665)
جبکہ مولوی سعیدی اس حدیث کے صحيح الفاظ اس طرح حاشئے میں لکھتے ہیں
ما عمل ادمی عملا قط انجی لہ من عذاب اللہ من ذکر اللہ۔۔۔۔
میرا سوال ہے بریلویوں سے اگر حضرت شیخ الحدیث ایک روايت کا ترجمہ کرتے ہوئے روايت بالمعنی کے تحت کوئی لفظ چھوڑدیں اور تم اس بنیاد پر معاذ اللہ ان کو خبيث اور شیطان کہو تو وہ شخص کتنا بڑاخبیث اور شیطان ہوگا جو ایک نہیں کئی احادیث کے ترجمے میں نہیں بلکہ متن میں اس طرح تحریف اور خیانتیں کرتا ہے ۔۔؟؟جواب دو۔۔۔ہم اس زبان میں بات کرنے کے قائل نہیں مگر۔۔
رکھو غالب مجھے اس تلخ نوائی میں معاف
آج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے
یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ بریلوی کے اس خان صاحب کے متعلق ان کے معتقدین کا عقیدہ ہے کہ :
ہم کو اور ہمارے ساتھ سارے علمائے عرب وعجم کو اعتراف ہے (کونسے علماءعرب و عجم۔۔؟؟؟مگر یہ نہ پوچھئے۔۔از ناقل)کہ یا حضرت شیخ محقق مولانا عبد الحق محدث دہلوی یا حضرت مولانا بحر العلوم فرنگی محلی یا پھر اعلحضرت فاضل بریلوی کی زبان و قلم کایہ حال دیکھا کہ مولی تعالی نے اپنی حفاظت میں لے لیا اور زبان و قلم نقطہ برابر خطا کرے اس کو ناممکن فرمادیا۔(تجلیات امام احمد رضا ،ص157،برکاتی پبلشرز کراچی)
پس جب بقول بریلویوں کہ خان صاحب معصوم عن الخطاءتھے معاذ اللہ اور ان کا قلم نقطہ برابر بھی خطا نہیں کرسکتا تو لامحالہ ماننا پڑے گا کہ احمد رضاخان نے ان احادےث کے اندر جو تحرےفات کی ہیں وہ کسی غلطی سہو یا نسیان کی وجہ سے نہیں بلکہ جان بوجھ کر محض نبی کریم ﷺ سے اپنی دشمنی کا اظہار کرتے ہوئے یہ سب کچھ کیا ،اور جھوٹی احادیث نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب کرنے والے شخص کے متعلق خود میرے آقا و مولی احمد مجتبی محمد مصطفی ﷺ فرماتے ہیں کہ
من کذب علی متعمدا فلیتبوا مقعدہ من النار
پس بریلویوں کو بھی عبرت حاصل کرنی چاہئے کہ ایسے جہنمی آدمی کو انھوں نے اپنا امام بنایا ہوا ہے یہ علمائے اہلسنت دیوبند کی کرامت ہے کہ جیسے ہی تم نے ان کے خلاف اپنی زبانیں دراز کیں اللہ نے تمہارے بڑوں کا انجام تمھیں دکھادےا فاعتبرو ا یااولی الابصار اور کیوں نہ ہو کہ جب خود رب العزت کا یہ اعلان ہے کہ
من عاد لی ولیا فقد اذنتہ بالحرب
قارئین کرام!!اگر آپ تھوڑا تلاش کریں تو اس طرح کی مزید کئی تحریفات آپ کو بریلوی کتب میں مل جائیں گی یہ چند حوالے میں نے آپ کے سامنے ذکر کردئے تاکہ ان کا اصل چہرہ آپ لوگوں کو دکھایا جاسکے۔اللہ پاک سے دعا ہے کہ میری اس ادنی کاوش کو اپنے دربار میں قبول و منظور فرمائے اور مرتے دم تک مسلک اہلسنت کی ترویج اور دفاع کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

Share this article :

Post a comment

 

Copyright © 2011. Al Asir Channel Urdu Islamic Websites Tarjuman Maslak e Deoband - All Rights Reserved
Template Created by piscean Solutions Published by AL Asir Channel
Proudly powered by AL Asir Channel