Home » » Hazrat Abdullah Bin Zubeer R.Z

Hazrat Abdullah Bin Zubeer R.Z

حضرت عبداللہ بن زبیرؓ
عبداللہ نام، ابو بکر اورحبیب کنیت،والد ماجد کا نام زبیرؓ اور والدۂ محترمہ کا نام اسماء تھا،جدی شجرہ یہ ہے،عبداللہ بن زبیرؓ بن عوام بن خویلدبن اسد بن عبدالعزی بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوئی قرشی اسدی، نانہالی نسب نامہ یہ ہے، اسماء بنت ابی بکرؓ بن ابی قحافہ ابن عامر بن عمروبن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب بن لوئی بن غالب بن فہر۔
حضرت عبداللہ کی ذات گرامی اپنے خاندان اوراپنی قرابتوں کے لحاظ سے متعدد شرفوں کی حامل تھی آپ کے والد ماجد حضرت زبیرؓ بن عوام آنحضرتﷺ کے حواری اورعشرہ مبشرہ میں تھے، ام المومنین حضرت خدیجہؓ صدیقہ آپ کی پھو پھی تھیں، آنحضرتﷺ کی پھوپھی حضرت صفیہؓ آپ کی دادی تھیں، اس رشتہ سے آپ کو آنحضرتﷺ کے بھانجے ہونے کا فخر حاصل ہے، یہ داد ہالی افتخار ہیں ،نانہالی رشتوں کے لحاظ سے بھی آپ کو متعدد فضائل حاصل تھے، حضرت ابوبکر صدیقؓ آپ کے نانا تھے آپ کی والدہ اسماءؓ، کو بارگاہ نبوت سے ذات النطاقین کا محبت آمیز لقب ملا تھا غرض آنحضرتﷺ کی محبوب ترین حرم محترم حضرت عائشہؓ آپ کی  خالہ تھیں ،غرض داد یا ل اورنانہال جس افق پر نظر جاتی ہے آسمان فضائل کے مہر وماہ نظر آتے ہیں۔

پیدائش بیعت

ایسے معزز گھرانے میں حضرت عبداللہؓ کی ذات گرامی وجود میں آئی، سنہ پیدائش کے بارہ میں روایات مختلف ہیں، بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ۱ھ میں پیدا ہوئے اوربعض سے ۲ ھ ظاہر ہوتا ہے ،پہلی روایت زیادہ مستند ہے، تاریخ اسلام میں آپ کی پیدائش کو اس لئے غیر معمولی اہمیت حاصل ہے کہ مہاجرین کے مدینہ آنے کے بعد عرصہ تک ان میں سے کسی کے اولاد نہیں ہوئی اور یہودیوں نے مشہور کردیا کہ مسلمانوں کی انقطاع نسل کے لئے انہوں نے سحر کردیا ہے، عین اسی شہرت کے زمانہ میں ان اوہام باطلہ کی تردید کے لئے حضرت عبداللہ ؓ پیدا ہوئے، اس لئے مسلمانوں کو آپ کی پیدائش سے غیر معمولی مسرت ہوئی، آپ کی والدہ محترمہ نومولود فرزند کو لیکر آنحضرت کی خدمت بابرکت میں حاضر ہوئیں اورآغوش رسالت میں دیدیا، آپ نے گود میں لیکر خیر و برکت کی دعا کی اور تبرکاً کھجور چباکر اس نومولود کے منہ میں ڈالے، اس طرح دنیا میں آنے کے بعد اس مائدہ عالم سے جو سب سے پہلے نعمت عبداللہ ؓ کے منہ میں گئی وہ آنحضرت کا لعاب دہن تھا۔
بیعت
جب سات آٹھ سال کے ہوئے تو حضرت زبیرؓ نے انہیں ایک دن آنحضرت کی خدمت میں حاضر کیا، آپ ان کو دیکھ کر مسکرائے اوراس چھوٹے مسلمان سے بیعت لی ،اس طرح ان کو بہت صغر سنی میں بیعت نبوی کا شرف حاصل ہوگیا۔

بچپن میں بلندی کے آثار

عموماً جو اشخاص مستقبل میں بڑے ہونے والے ہوتے ہیں ، ان کے بچپن ہی کے واقعات ان کے روشن اور پر عظمت مستقبل کا پتہ دیتے ہیں، اگر دنیا کے اکابر رجال کے ابتدائی حالات کا پتہ چلایا جائے تو ان کی صغر سنی ہی کے واقعات سے ان کی آئندہ عظمت کا پتہ چل جائے گا۔
چونکہ حضرت عبداللہ کو آگے چل کر اکابر رجال کی فہرست میں داخل ہونا تھا اور تاریخ اسلام میں عزم و حوصلہ اور تہور وشجاعت کی داستانیں چھوڑنی تھیں اس لئے بچپن ہی سے وہ نہایت جری ،بیباک ،باحوصلہ  تھے،بچوں میں عموماً خوف و ہراس غالب ہوتا ہے اور وہ معمولی معمولی باتوں سے ڈر جاتے ہیں،لیکن عبداللہ اس عمر میں بھی بڑے نڈر تھے،اسی زمانہ کا ایک واقعہ ہے کہ وہ ایک مرتبہ بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے کہ ایک شخص نے چیخ مار کر بچوں کو بھگا دیا،لیکن عبداللہ فوراً سنبھل کر لوٹ پڑے اور لڑکوں سے کہا تم لوگ ہمیں اپنا سردار بناکر اس شخص پر حملہ کردو؛چنانچہ اسی وقت ایک چھوٹی سی فوج مرتب کرکے اس شخص پر حملہ کردیا۔
بچپن میں جب بیعت کے لئے رسول اللہ کی خدمت میں حاضر کئے گئے تو ان کے دو اور ہم سن حضرت جعفرؓ کے لڑکے عبداللہ اور ابو سلمہ کے لڑکے عمر بھی بیعت کے لئے پیش کئے تھے، یہ دونوں تو رسول اللہ کو دیکھ کر جھجکے لیکن عبداللہ ؓ بڑی دلیری سے آگے بڑھ گئے، آنحضرت ان کی تیزی دیکھ کر مسکرادیئے اورفرمایا اپنے باپ کا بیٹا ہے۔

(البدایہ والنہایہ:۸/۳۳۳)

حضرت عمرؓ درشت آدمی تھے،اس لئے لڑکے انہیں دیکھ کر شرارت بھول جاتے تھے اور بھاگ نکلتے تھے ایک مرتبہ ابن زبیرؓ بچوں کےسا تھ کھیل رہے تھے، حضرت عمرؓ ادھر سے گذرے تو سب بچے ان کو دیکھ کر بھاگ گئے؛ لیکن عبداللہ بدستور اپنی جگہ کھڑے رہے،حضرت عمرؓ نے پوچھا تم کیوں نہیں بھاگے انہوں نے کڑک کر جواب دیا، میں کیوں بھاگتا نہ میں نے کوئی جرم کیا تھا اورنہ راستہ تنگ تھا کہ آپ کے لئے چھوڑتا،
(یہ دونوں واقعہ ،اثیر:۳/۲۹۳ سے ماخوذ ہیں) ان واقعات سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ عبداللہ بچپن ہی سے کس قدر جری اوردلیر تھے۔

ہد خلفاء

عہد رسالت اورعہد صدیقی میں ابن زبیرؓ کم سن تھے، اس لئے ان دونوں زمانوں کا کوئی واقعہ قابل ذکر نہیں ہے البتہ ایک روایت سے اس قدر معلوم ہوتا ہے کہ غزوۂ خندق میں وہ ایک اونچے ٹیلے پر سے غزوۂ خندق کا تماشا دیکھتے تھے اس وقت ان کی عمر کل چار پانچ سال کی تھی اس روایت سے بھی ان کی فطری جرات وبہادری کا پتہ چلتا ہے ورنہ کم سن بچہ ایسے ہولناک مناظر کے تخیل سے سہم جاتا ہے، لیکن ابن زبیرؓ نے اسے دیکھا اورمحفوظ رکھا۔

(مستدرک حاکم:۳/۵۵۵)

حضرت عمرؓ کے ابتدائی زمانہ میں بھی بچپن ہی تھا، البتہ آخری عہد میں نوجوانی کا آغاز ہوگیا تھا ؛چنانچہ ۲۲ھ میں جبکہ ان کی عمر ۲۱ سال کی تھی،سب سے اول یرموک کی جنگ میں اپنے والد بزرگوار کے ساتھ شریک ہوئے، (اصابہ:۴/۷۱) اوریہ غالباً ان کے میدان جہاد میں قدم رکھنے کا پہلا موقع تھا، اس شرکت نے ان کی فطری صلاحیت کو ابھاردیا اورمیدان جنگ ایسا بھایا کہ پھرمرتے دم تک تلوار ہاتھ سے نہ چھوٹی۔

جنگ طرابلس

حضرت عثمانؓ کے زمانہ میں پورے آزمودہ کار بہادر ہوگئے تھے ،اس لئے ان کے اصل کارناموں کا آغاز ہی اسی عہد سے ہوتا ہے چنانچہ اس عہد میں سب سے اول طرابلس کی جنگ میں شریک ہوئے، اس کی تسخیر درحقیقت عبداللہ ہی کی خوش تدبیر ی کا نتیجہ تھی، اس کی تفصیل یہ ہے کہ ۲۶ھ میں جب عبداللہ بن ابی سرح نے طرابلس پر حملہ کیا تو یہاں کا حاکم جر جیر ایک لاکھ بیس ہزار لشکر جرار کے ساتھ مقابلہ کو نکلا عرصہ تک دونوں میں نہایت پر زور مقابلہ ہوتا رہا، لیکن کوئی فیصلہ نہ ہوسکا،حضرت عثمانؓ کو میدان جنگ کے حالات کی کوئی خبر نہ ملتی تھی،  اس لئے آپ نے ابن زبیرؓ کو ایک دستہ کے ساتھ دریافت حال کے لئے بھیجا، یہ طرابلس پہنچے تو مسلمانوں نے انہیں دیکھ کر نعرۂ تکبیر  لگایا، جر جیر نے اس کا سبب پوچھا ،معلوم ہوا مسلمانوں کا امدادی دستہ آیا ہے، یہ سن کر وہ گھبراگیا،عبداللہ بن زبیرؓ کے آنے سے پہلے جنگ نہایت بے ترتیب ہورہی تھی مقابلہ کا کوئی وقت متعین نہ تھا، انہوں نے آتے ہی سب سے پہلے صبح سے دوپہر تک کا وقت مقابلہ کیلئے مقرر کیا ؛چنانچہ صبح سے لیکر دوپہر تک مقابلہ ہونے لگا بعد نماز ظہر مجاہدین اپنے اپنے خیموں میں چلے جاتے تھے۔
ابن زبیرؓ تمام مجاہدین کو میدان جنگ میں دیکھتے تھے،لیکن ابن ابی سرح انہیں کہیں نظر نہ آتا تھا، سبب پوچھا تو معلوم ہوا کہ جر جیرنے اعلان کیا ہے کہ جو شخص عبداللہ بن سعد کا سر لائیگا اس کو ایک لاکھ دینار انعام دیاجائے گا اور اپنی لڑکی اس کے ساتھ بیاہ دیگا، اس اعلان کی وجہ سے وہ کھلے بندوں نہیں نکلتا ہے ،یہ سن کر ابن زبیرؓ عبداللہ بن سعد کے پاس گئے اوراس سے کہا کہ اس میں خوف کی کیا بات ہے تم بھی اعلان کرادو کہ جو شخص جرجیر کا سرلائیگا اس کو ایک لاکھ نقد انعام دیا جائے گا ، اس کی لڑکی اس کے ساتھ بیاہ دی جائے گی اوراس کے پورے ملک کا اسے حکمران بنادیا جائے گا، ابن زبیرؓ کے اس مشورہ کے مطابق عبداللہ بن سعد بن ابی سرح نے یہ اعلان کرادیا، اس اعلان پر جرجیر عبداللہ بن سعد سے بھی زیادہ ہراساں ہوگیا۔
لیکن جنگ پر اس کا کوئی اثر نہ پڑا وہ برابر طول کھینچتی چلی جارہی تھی اورکوئی فیصلہ نہ ہوتا تھا،ایک دن ابن زبیرؓ ابن ابی سرح سے کہا کہ جنگ کا سلسلہ ختم ہونے میں نہیں آتا ہم لوگ اپنے ملک سے بہت دور ہیں ہمارا حریف اپنے ملک کے اندر ہے، اس کو ہر طرح مدد مل رہی ہے اس لئے میرا مشورہ یہ ہے کہ کل ہم لوگ فوج کے ایک حصہ کو آرام کرنے دیں اورایک حصہ کو لیکر مقابلہ کیلئے نکلیں جب معمول کے مطابق رومی تھک کر لوٹ جائیں تو ہم لوگ  تازہ دم فوج لیکر فوراً حملہ کردیں،اس تدبیر سے ممکن ہے خدا ہمیں کامیاب کردے ابن ابی سرح نے یہ مشورہ عام صحابہ کے سامنے پیش کیا، سب نے اس مفید تجویز کی تائید کی ؛چنانچہ دوسرے دن اسلامی فوج کے تمام منتخب بہادروں کو سازوسامان سے لیس کرکے خیموں میں چھوڑ دیا گیا اور باقی مسلمان میدان میں نکلے، صبح سے دوپہر تک نہایت زور دار مقابلہ ہوتا رہا، بعد دوپہر جب معمول کے مطابق رومیوں نے اپنے خیموں میں لوٹنا چاہا تو ابن زبیرؓ نے اس کا موقع نہ دیا اور برابر جنگ کا سلسلہ جاری رکھا، جب فریقین تھک کر چور ہوگئے تو ایک دوسرے سے الگ ہوکر اپنے اپنے لشکر گاہ پر لوٹ گئے رومیوں کے واپس جاتے ہی ابن زبیرؓ تازہ دم فوج لیکر پہنچ گئے اور رومیوں پر اس طرح اچانک ٹوٹ پڑے کہ ان کو ہتھیار سنبھالنے کا موقع بھی نہ مل سکا اورانہوں نے نہایت فاش شکست کھائی اس معرکہ میں جرجیر کی لڑکی بھی گرفتار ہوئی۔
رومیوں کو میدان سے بھگانے کے بعد ابن ابی سرح نے محاصرہ کرکے شہر فتح کرلیا اس میں اتنا مال غنیمت ہاتھ آیا کہ فی سوار تین تین ہزار اور فی پیادہ ایک ایک ہزار دینار حصہ میں پڑا، سبیطلہ کی فتح کے بعد ابن ابی سرح نے سارے طرابلس  میں اپنی فوجیں پھیلادیں اورابن زبیرؓ فتح کا مژدہ لیکر مدینہ واپس گئے اس طرح طرابلس کی فتح کا سہرا درحقیقت ابن زبیرؓ ہی کے سررہا۔

(ابن اثیر:۳/۶۸،۷۰)

طبرستان کی فوج کشی میں شرکت

افریقہ کی فتح کے بعد ۳۰ھ میں طبرستان کی فوج کشی میں شریک ہوئے اورنمایاں حصہ لیا، (ایضا:۸۴) ان دونوں مہموں کے علاوہ اس عہد کے اکثر معرکوں میں ابن زبیرؓ نے داد شجاعت دی ؛لیکن ان میں ان کے کوئی نمایاں کارنامے نہیں ہیں، اس لئے ان کی تفصیل کی ضرورت نہیں۔

حضرت عثمان کی حفاظت

حضرت عثمانؓ کے ابتدائی دور تک مسلمانوں کا شیرازہ بندھا ہوا تھا اوران کی تمام قوتیں غیر مسلمانوں کے مقابلہ میں صرف ہوتی تھیں اس لئے جدھر رخ کردیتے تھے فتح و نصرت ان کے قدم لیتی تھی، لیکن چند ہی برسوں میں دفعۃ حالات بدل گئے اورمسلمانوں میں ایسا تفرقہ پیدا ہوا کہ پھر ان کی شیرازہ بندی نہ ہوسکی ،ابتدا میں چند اشخاص کو حضرت عثمانؓ کے خلاف کچھ شکایتیں تھیں، فتنہ پردازوں نے اسے آڑ بنا کر حضرت عثمانؓ کے خلاف ایسی آگ لگائی کہ مسلمانوں کی پینتیس سالہ مساعی جل کر خاکستر ہوگئی اور ۳۵ ھ میں شورش پسندوں کی جسارت یہاں تک بڑھ گئی کہ خلیفۃ المسلمین کو قصر خلافت میں گھیر لیا، ایسے نازک وقت میں خلیفہ مظلوم کی حفاظت کے لئے جو سرفروش نکلے تھے ان میں ایک ابن زبیرؓ بھی تھے۔

(تاریخ الخلفا سیوطی:۱۵۹

حضرت عثمان کی شہادت اور جنگ جمل

لیکن حضرت عثمانؓ کے خلاف جو طوفان اٹھایا گیا تھا وہ ایسا نہ تھا کہ چند مصلحین کے روکنے سے تھم جاتا؛چنانچہ اس نے حضرت عثمانؓ کی شمع حیات بجھا کر دم لیا، آپ کی شہادت پر صحابہ کے تین گروہ ہوگئے تھے ایک گروہ خانہ نشین ہوگیا تھا دوسرا حضرت علیؓ کے ساتھ آپ کی حمایت میں تھا اور تیسرا خلیفہ مظلوم کا قصاص لینے پر آمادہ تھا، اس آخری جماعت کے سرگروہ حضرت طلحہؓ ،زبیرؓ، عبداللہ اورعائشہ صدیقہؓ تھیں، اس اختلاف نے صحابہ کے دوگروہوں کو باہم صف آرا کردیا حضرت عثمانؓ کے انتقام لینے والے گروہ کی قیادت حضرت عائشہؓ کرتی تھیں اور حضرت علیؓ ان کے مقابلہ میں صف آرا تھے، عین میدان جنگ میں جب مسلمانوں کی تلواریں ایک دوسرے کا خون پی رہی تھیں، حضرت علیؓ نے عبداللہ کے والد زبیرؓ کو رسول اکرم کی ایک پیشین گوئی یاد دلائی زبیرؓ اسے سن کر الٹے پاؤں لوٹ گئے آپ کے صاحبزادے حضرت عبداللہؓ نے روکنے کی بہت کوشش کی ؛لیکن حواری رسول آقائے نامدار کی پیشین گوئی سننے کے بعد ایک لمحہ کیلئے بھی اس کا مصداق نہیں بن سکتا تھا۔

(مستدرک حاکم:۳/۳۶۶)

محتاط صحابہ نے اس خانہ جنگی کو روکنے کی بہت کوششیں کیں، لیکن کوئی کوشش بھی کارگر نہ ہوئی اور مسلمانوں کے دو مقدس گروہوں میں نہایت خون آشام جنگ شروع ہوگئی ،حضرت عائشہؓ اونٹ پر سوار اپنی فوج کی حوصلہ افزائی فرماتی تھیں یہ جنگ دو مقدس ہستیوں کی غلط فہمی اورخطائے اجتہادی کا نتیجہ تھی، لیکن ان کے پیروؤں نے شخصیتوں کا بھی لحاظ اٹھادیا تھا اورحضرت عائشہؓ کے اونٹ پر برابر تیروں کا مینہ برس رہا تھا اور نا موس نبوت کے فدائی اونٹ کے گرد پروانہ وار حریم نبوت کی شمع پر فدا ہورہے تھے، ابن زبیرؓ بھی خالہ کی حفاظت میں سربکف محمل کے پاس پہنچے، حضرت عائشہؓ نے محمل کے اندر سے پوچھا کون؟ ابن زبیرؓ نے کہا! اماں آپ کا بیٹا، حضرت عائشہؓ نے پیار کے لہجہ میں ڈانٹا ،ابھی خالہ بھانجے میں گفتگو ہورہی تھی کہ حضرت علیؓ کی فوج سے اشترنخعی حضرت عبداللہ کی طرف لپکا انہوں نے تلوار سونت لی اوردونوں میں تلوار چلنے لگی اشترنے ایسا وار کیا کہ ابن زبیرؓ کا سر کھل گیا، انہوں نے بھی جواب دیا مگر اوچھا پڑا اوردونوں باہم دست و گریبان ہوگئے لیکن دونوں طرف آدمیوں نے بڑھ کر چھڑا دیا۔

(ابن اثیر:۳/۲۰۶)

یزید کی ولیعہدی اورابن زبیرؓ کی مخالفت

جنگ جمل میں خالہ کی محبت اورناموس نبوت کی حمایت میدان جنگ میں کھینچ لائی تھی،لیکن اس کے بعد صفین کی خانہ جنگی میں مطلق کوئی حصہ نہیں لیا؛بلکہ رفع شر کے خیال سے امیر معاویہؓ کے ہاتھ پر بیعت کرلی اوراس وقت تک اس بیعت پر قائم رہے جب تک امیر معاویہ نے اسلامی خلافت کو موروثی سلطنت بنانے کی کوشش نہیں کی، لیکن جب انہوں نے یزید کو ولیعہد بنانے کا ارادہ کیا تو ابن زبیرؓ نے اس کی بڑی پر زور مخالفت کی ؛چنانچہ جب امیر معاویہؓ یزید کی بیعت لینے کے لئے مدینہ آئے اورحضرت حسینؓ، عبدالرحمن بن ابی بکرؓ، وغیرہ کو بلایا تو ان لوگوں نے ان سے گفتگو کرنے کے لئے ابن زبیرؓ کو اپنا نمائندہ منتخب کیا،امیر معاویہؓ نے ان بزرگوں سے کہا کہ تم لوگوں کے ساتھ میرا جو طرز عمل ہے تمہارے ساتھ جس قدر صلہ رحمی کرتا ہوں اورتمہاری جتنی باتیں انگیز کرتا ہوں وہ سب تم کو معلوم ہیں، یزید تمہارا بھائی اورتمہارا ابن عم ہے میں صرف اتنا چاہتا ہوں کہ تم لوگ صرف نام کے لئے اس کو خلیفہ کا لقب دیدو، باقی عمال کا عزل ونصب خراج کی تحصیل وصول اوراس کا صرف سب تم ہی لوگوں کے ہاتھوں میں رہےگا اوروہ اس میں کوئی مزاحمت نہ کریگا، یہ سن کر سب خاموش ہوگئے، کسی نے کوئی جواب نہ دیا، ان کی خاموشی پر امیر معاویہؓ نے ابن زبیرؓ سے کہا تم ان کے خطیب اورنمائندہ ہو اس لئے تم جواب دو، انہوں نے کہا اگر آپ رسول اللہ ،ابوبکرؓ اورعمر ؓ میں سے کسی ایک کا طریقہ انتخاب بھی اختیار  کیجئے تو اس کے قبول کرنے میں ہم کو کوئی عذر نہ ہوگا، امیر نے کہا ان لوگوں کا طریقہ کیا تھا؟ ابن زبیرؓ نے جواب دیا رسول اللہ نے اپنی وفات کے وقت کسی کو اپنا خلیفہ نہیں بنایا، آپ کے بعد مسلمانوں نے ابوبکرؓ کو منتخب کرلیا،امیر معاویہؓ نے کہا یہ سچ ہے،لیکن آج ہم میں ابوبکرؓ جیسی شخصیت کسی کی ہے جس پر سب کا اتفاق ہوجائے، ایسی صورت میں تو اختلاف کے اورزیادہ بڑھنے کا خطرہ ہے،ابن زبیرؓ نے کہا تو پھر ابوبکرؓ کا طریقہ اختیار کیجئے کہ انہوں نے ایک ایسے شخص کو خلیفہ بنایا، جس کا نسبی تعلق قریش سے بہت دور پر ملتا تھا اور وہ ان کا عزیز بھی نہ تھا، یا عمرؓ کا طریقہ اختیار کیجئے کہ انہوں نے چھ آدمیوں کا انتخاب کرکے ان میں سے ایک کا انتخاب مجلس شوریٰ پر چھوڑ دیا اورچھ آدمیوں میں سے کوئی بھی نہ ان کی اولاد میں تھا اورنہ ان کے باپ کی اولاد میں ،امیر معاویہ نے کہا اس کے علاوہ کوئی اور صورت ہے؟ ابن زبیرؓ نے کہا نہیں۔

(ابن اثیر:۳/۴۲۲)

اس کے بعد جو کچھ ہوا اس کی تفصیل امیر معاویہؓ کے حالات میں گذر چکی ہے، اس لئے یہاں اس کے اعادہ کی ضرورت نہیں ،امیر معاویہؓ ابن زبیرؓ کی اس دلیری اورجرأت سے ہمیشہ ان سے کھٹکتے رہے؛چنانچہ اپنی وفات کے وقت جب انہوں نے ابن زبیرؓ اور ان کے معاصرین کے متعلق یزید سے وصیت کی تو ابن زبیرؓ کے خطرہ سے اس کو خاص طور سے آگاہ کیا کہ جو شخص لومڑی کی طرح کا داؤدے کر شیر کی طرح حملہ آور ہوگا وہ عبداللہ بن زبیرؓہے اگر وہ مصالحت کرلیں تو فبہا ورنہ قابو پانے کے بعد ان کو ہرگز نہ چھوڑنا۔
حضرت معاویہ کا انتقال

یزید کی ولیعہدی کی بیعت کے چار سال بعد ۶۰ ھ میں امیر معاویہؓ کا انتقال ہوگیا اوریزید ان کا جانشین ہوا، اس وقت اس کے لئے سب سے بڑا سوال حضرت حسینؓ اورابن زبیرؓ کی بیعت کا تھا ؛چنانچہ زمام حکومت سنبھالنے کے بعد اس نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ ولید بن عتبہ حاکم مدینہ کے نام حسینؓ اورابن زبیرؓ سے بیعت لینے کا تاکیدی حکم بھیجا، اس حکم پر ولید نے ان دونوں کا بلا بھیجا ،حسینؓ اس طلبی پر چلے آئے؛ لیکن ابن زبیرؓ نے ایک دن کی مہلت مانگی اورراتوں رات مدینہ سے مکہ نکل گئے، ولید کو خبر ہوئی تو ان کی تلاش میں آدمی دوڑائے مگر ابن زبیرؓ دور نکل چکے تھے مکہ پہنچنے کے بعد یہاں مستقل قیام کیا، اسی دوران میں حضرت حسینؓ کوفہ کے قصد سے مدینہ سے مکہ آئے ،ابن زبیرؓ کو جب معلوم ہوا کہ عراقی پورے طور پر حسینؓ کی امداد کے لئے آمادہ ہیں اور وہ ان کی دعوت پر کوفہ جانے والے ہیں، توآپ کے پاس جاکر پہلے آپ کے اس ارادہ کی تائید کی پھر اس خیال سے کہ مبادا اس تائید سے حضرت حسینؓ کو ان کی جانب سے کوئی بد گمانی پیدا ہو، یہ مشورہ دیا کہ آپ حجاز ہی میں رہ کر حصول خلافت کی کوشش کیجئے، ہم سب بیعت کرکے آپ کی کامیابی کے لئے کوشش کریں گے اور ہر طرح سے آپ کے خیر خواہ رہیں گے، حضرت حسینؓ نے فرمایا، میں نے اپنے والد سے ایک حدیث سنی ہے کہ حرم کا ایک مینڈھا ہے جس کی وجہ سے اس کی حرمت اٹھ جائے گی، اس لئے میں چاہتا ہوں کہ میں وہ مینڈھا نہ بنو ، اس جواب پر ابن زبیرؓ نے پھر بہ اصرار کہا کہ آپ حرم میں قیام کئے ہوئے بیٹھے رہئے ،باقی تمام کام میں انجام دوں گا، لیکن حضرت حسینؓ نے جواب دیا کہ اگر میں حرم سے ایک بالشت بھی باہر قتل کیا جاؤں تو وہ مجھے حرم میں قتل ہونے سے زیادہ پسند ہے،حضرت حسینؓ کو ان کی طرف سے کچھ بد گمانی تھی (طبری:۷/۲۷۴) اس لئے ان کے مشوروں کو خیر خواہی پر محمول نہ فرمایا اور یوں بھی آپ کوفہ جانے کا فیصلہ کرچکے تھے، اس لئے ابن زبیر کا مشورہ رائگاں گیا۔

ابن زبیرؓ کا دعویٰ خلافت

شامی وفد کی واپسی کے بعدابن زبیرؓ نے تہامہ اوراہل حجاز کو اپنی بیعت کی دعوت دی،حضرت عبداللہ بن عباسؓ اورمحمد بن حنفیہ کے علاوہ باقی اورتمام لوگوں نے بیعت کرلی ،بیعت لینے کے بعد انہوں نے یزید کے عمال کو مدینہ سے نکال دیا اوریہاں سے بنی امیہ کی حکومت اٹھ گئی ،یزید کو ان حالات کی خبر ہوئی تو اس نے مسلم بن عقبہ مری کو ایک فوج گراں کے ساتھ حجاز روانہ کیا اورہدایت کردی کہ پہلے اہل مدینہ کی تادیب کی جائے انہوں نے بھی مکہ والوں کی طرح اپنے یہاں سے اموی عمال کو نکال دیا تھا اورمدینہ سے فراغت کے بعد پھر مکہ میں ابن زبیرؓ کا مقابلہ کیا جائے؛چنانچہ اس ہدایت کے مطابق مسلم پہلے مدینہ آیا، یہاں کے باشندے پہلے سے مقابلہ کے لئے تیار تھے،دونوں میں نہایت پرزور مقابلہ ہوا، لیکن اہل مدینہ حکومت کی طاقت کی تاب نہ لاسکے اورشکست کھاگئے،اس معرکہ میں بہت سے انصاری شہید ہوئے اورشامی فوج تین شبانہ روز تک نہایت بیدردی کے ساتھ مدینۃ الرسول کو لوٹتی رہی اوریہاں کے باشندوں کو بیدریغ قتل کرتی رہی،پھر باشندگان مدینہ سے بزور شمشیر یزید کی بیعت لے کر مکہ روانہ ہوئی۔

مکہ کا محاصرہ اور یزید کی موت

ابھی مسلم مکہ نہ پہنچا تھا کہ اس کا وقت آخر ہوگیا اوروہ راستہ ہی میں حصین بن نمیر کو اپنا جانشین بنا کر چل بسا ،اس وقت ابن زبیرؓ حرم محترم میں پناہ گزین تھے، حصین بن نمیر نے پہنچ کر حرم کا محاصرہ کرلیا اور جبل ابو قبیس پر منجنیق نصب کرکے خانہ کعبہ پر آتشبازی شروع کردی، اس آتش بازی سے کعبہ کی عبارت کو نقصان پہنچا۔
ابن زبیرؓ اورحصین میں مقابلہ جاری تھا کہ ربیع الاول ۶۴ھ میں یزید کا انتقال ہوگیا، اس کی موت سے شامیوں کی ہمت چھوٹ گئی اورحصین بن نمیر نے ابن زبیرؓ سے کہلا بھیجا کہ جس کے لئے ہم لڑتے تھے وہ مرگیا، اس لئے اب صلح کرکے حرم کے دروازے کھول دو تاکہ ہمارے آدمی خانہ کعبہ کا طواف کرلیں، اوراب آپس میں ملنا جلنا چاہیے اس کی اس درخواست پر ابن زبیرؓ نے حرم کے دروازے کھول دیئے اورشامی بلا تکلف طواف کرنے لگے اس سلسلہ میں ایک دن ابن زبیرؓ اور حصین میں ملاقات ہوگئی، یہ وہ وقت تھا کہ یزید کی وفات سے بنی امیہ کی قوت کمزور پڑچکی تھی اوراس وقت ان میں کوئی ایسا باحوصلہ شخص نظر نہ آتا تھا جو حکومت سنبھال سکتا،اس لئے حصین نے ابن زبیرؓ کا ہاتھ پکڑ کے آہستہ سے کہا اگر آپ میرے ساتھ شام چلے چلئے تو وہاں میں آپ کی بیعت کے لئے کوشش کروں ان لوگوں (بنی امیہ) کا معاملہ اب کمزور پڑچکا ہے، اورموجودہ وقت میں آپ سے زیادہ کوئی شخص خلافت کا مستحق نظر نہیں آتا ،یہ راز دارانہ گفتگو سن کر ابن زبیرؓ نے حصین کا ہاتھ جھٹک دیا اوربآواز بلند جواب دیا، جب تک ایک ایک حجازی کے بدلہ میں دس دس شامیوں کا سر نہ قلم کرلوں گا، اس وقت تک یہ ناممکن ہے، حصین نے مایوس ہوکر جواب دیا، جو شخص تم کو دہاۃ عرب میں شمار کرتا ہے، وہ غلطی پر ہے، میں تم سے راز کی گفتگو کرتا ہوں اور تم چلاکر اس کا جواب دیتے ہو، میں تم کو امن و سلامتی کی طرف بلاتا ہوں اور تم میدان جنگ میں کھینچتے ہو، ابن زبیر کا یہ رنگ دیکھ کر حصین فوج لئے ہوئے شام چلا گیا۔
درحقیقت ابن زبیرؓ کو یہ بہترین موقع ملا تھااگر جذبات سے مغلوب ہوکر اسے نہ کھودیتے اورحصین کی دعوت قبول کرلیتے تو آج بنو امیہ کی تاریخ کا کہیں وجود نہ ہوتا اور تاریخ اسلام کسی اوررنگ پر ہوتی مگر ان کی قسمت میں تو مقتول ہونا لکھا تھا۔

عاویہ بن یزید کی تخت نشینی

یزید کے بعد اس کا لڑکا معاویہ تخت نشین ہوا ،یہ طبعاً سلیم الفطرت تھا اس لئے بنی امیہ کے بے عنوانیوں سے بہت جلد بددل ہوگیا اورتخت نشینی کے چند ہی مہینوں کے بعد اپنے اہل خاندان کو جمع کرکے کہا کہ مجھ میں تمہاری حکومت کے سنبھالنے کی طاقت نہیں ہے اور تم میں کوئی عمر بن الخطاب ؓ نظر نہیں آتا، جسے خلیفہ بنادوں اورنہ اہل شوریٰ ہی نظر آتے ہیں کہ ان پر معاملہ چھوڑدوں تم اپنے معاملات کو زیادہ سمجھ سکتے ہو، اس لئے جسے چاہو خلیفہ بنا لو،یہ کہہ کر خلافت سے دستبردار ہوگیا ۔
معاویہ بن یزید کی دست برداری کے بعد بنی امیہ کی خلافت قریب قریب ختم ہوگئی اور تمام اسلامی ممالک نے ابن زبیرؓ کی خلافت تسلیم کرلی، شام میں بھی ان کا کوئی حریف باقی نہ رہا ؛کیونکہ مروان بن حکم اور دوسرے اکابر بنی امیہ مدینہ میں تھے؛ لیکن ان میں بھی ابن زبیرؓ کے مقابلہ کا دم باقی نہ تھا؛چنانچہ مروان ان کی بیعت پر آمادہ ہوگیا تھا ،لیکن اس موقع پر پھر ابن زبیرؓ نے بڑی سیاسی غلطی کی،جو پہلی غلطی سے بھی زیادہ سخت تھی (اس سے مراد حصین بن نمیر کے مشورہ کی مخالفت ہے جو اوپر گزرچکا ہے)انہوں نے انتقام کے جوش میں جس قدر بنی امیہ مدینہ میں تھے، سب کو حکماً نکلوادیا ان میں مروان بھی تھا ؛بلکہ مروان کا لڑکا عبد الملک اس وقت بیمار تھا، اس کی بیماری کی وجہ سے مروان سفر سے معذور تھا،لیکن ابن زبیرؓ کے سخت احکام کے سامنے اس کو قیام کرنے کی ہمت نہ پڑی اوراسے بیمار عبدالملک کو لے کر مجبوراً مدینہ چھوڑنا پڑا، بنوامیہ کے مدینہ سے نکلنے کے بعد ابن زبیر کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اورانہوں نے بنی امیہ کی تلاش میں آدمی دوڑائے مگر وہ قابو سے باہر ہوچکے تھے، (یعقوبی:۳/۳۰۳،۳۰۴) اس غلطی سے بنی امیہ کو قدم جمانے کا موقع مل گیا،اگر عبداللہ بن زبیرؓ انہیں مدینہ میں رہنے دیتے تو پھر خاندان بنی امیہ میں ان کا مقابلہ کرنے والا کوئی نہ تھا اوردمشق کا تخت ان کے لئے بالکل خالی ہوجاتا مگر ان کی قسمت میں بے دردی کے ساتھ حرم میں ذبح ہونا مقدر ہوچکا تھا، اس لئے خود اپنے ہاتھوں سے اس کے اسباب مہیا کردیئے۔

شام میں مروان کی بیعت

بنی امیہ مدینہ سے نکل کر شام پہنچے، اس وقت یہاں کی حالت بڑی ابتر ہورہی تھی،گو ابن زبیرؓ کا اثر یہاں بھی پہنچ چکا تھا،تاہم بنی امیہ کے پایہ تخت ہونے کی وجہ سے ان کے حامیوں کی بھی خاصی جماعت موجود تھی،مروان جس وقت شام پہنچا، اس وقت اسے دو قسم کی مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑا، ایک عبداللہ بن زبیرؓ کے شامی حامیوں کی، دوسرے خود اپنے اہل خاندان کی، اس لئے کہ بنی امیہ میں اس وقت مروان کے علاوہ عمر وبن سعد اورخالد بن یزید بھی خلافت کے دعویدار تھے؛چنانچہ عرصہ تک ان میں کشمکش جاری رہی اورجنگ و جدال تک کی نوبت بھی آگئی لیکن آخر میں بنی امیہ کے ایک خیر خواہ روع بن زنباع جذامی کی کوششوں سے یہ اختلاف ختم ہوگیا اورذی الحجہ ۶۴ھ میں مروان کا انتخاب ہوگیا اوراس کے بعد علی الترتیب خالد بن یزید اور عمر وبن سعید ولیعہدی کے لئے نامزد کردیئے گئے اس طرح بنی امیہ کی گرتی ہوئی عمارت سنبھل گئی۔

شہادت

ماں کے اس فرمان پر انہوں نے جان کی حفاظت کا یہ آخری سہارا بھی اتار دیا اورکپڑے درست کرکے رجز پڑہتے ہوئے رزمگاہ پہنچے اورآتے ہی اس زور کا حملہ کیا کہ بہت سے شامی خاک و خون میں تڑپ گئے ؛لیکن شامیوں کی تعداد بہت زیادہ تھی اس لئے ابن زبیرؓ کے ساتھی ان کے جوابی حملہ کی تاب نہ لاسکے اوران کے ریلے سے منتشر ہوگئے، ایک خیر خواہ نے ایک محفوظ مقام پر چلے جانے کا مشورہ دیا، فرمایا ایسی حالت میں مجھ سے برا کون ہوگا کہ پہلے اپنے ساتھیوں کو قتل ہونے کے لئے سامنے کردیا اور ان کے قتل ہونے کے بعد میں ان کی جیسی موت سے بھاگ نکلوں۔
اب ابن زبیرؓ کی قوت بہت کمزور پڑ گئی تھی، اس لئے شامی برابر بڑھتے آرہے تھے یہاں تک کہ خانہ کعبہ کے تمام پھاٹکوں پر ان کا ہجوم ہوگیا،لیکن ابن زبیرؓ اس حالت میں بھی شیر کی طرح چاروں طرف سے حملہ آور ہوتے اور جدھر رخ کردیتے تھے شامی کائی کی طرح چھٹ جاتے تھے، حجاج نے جب دیکھا کہ کوئی شامی ان کے پاس جانے کی ہمت نہیں کرتا تو خود سواری سے اتر پڑا اوراپنی فوج کو للکار کر ابن زبیر کے علمبردار کی طرف بڑھنے کا حکم دیا، لیکن ابن زبیرؓ نے بڑھ کر اس بڑہتے ہوئے ہجوم کو بھی منتشر کردیا اورنماز پڑھنے کے لئے مقام ابراہیم پر چلے گئے شامیوں نے موقع پاکر ان کے علمبردار کو قتل کرکے علم چھین لیا، ابن زبیرؓ نماز پڑھ کر لوٹے تو بڑی دیر تک بغیر علم کے لڑتے رہے۔

(یہ تمام حالات ملحضا ابن اثیر:۴/۲۸۶،۲۸۹)

عین اس حالت میں ایک شامی نے ایسا پتھر مارا کہ ابن زبیرؓ کا سر کھل گیا اور چہرے سے خون کا فوارہ پھوٹ نکلا داڑھی خون سے تر ہوگئی، اس خونبانہ فشانی پر ابن زبیرؓ نے یہ شجاعانہ شعر پڑھا۔

والنسا علی الاعقاب تدمی کلومنا                                                                                  ولکن علی اقد امنا تقطرالدماء

یعنی ہم وہ نہیں کہ پیٹھ پھیرنے کی وجہ سے جن کی اینڈیوں پر خون گرتا ہے؛بلکہ سینہ سپر ہونے کی وجہ سے ہمارے قدموں پر خون ٹپکتا ہے۔

یہ رجز پڑہتے جاتے تھے اور پورے شجاعت و دلیری سے لڑتے جاتے تھے،لیکن زخموں سے چور ہوچکے تھے ساتھیوں کی ہمت پست ہوچکی تھی، شامیوں کا انبوہ کثیر مقابل میں تھا اس لئے آخر میں انہوں نے ہر طرف سے یورش کرکے قتل کردیا اور جمادی الثانی ۷۳ ھ میں قریش کا یہ یگانہ بہادر، حواری رسول کا لخت جگر اور ذات النطاقین کا نور نظر ہمیشہ کے لئے خاموش ہوگیا۔

(طبری:۸/۸۵۰، ومستدرک تذکرہ ابن زبیر)

تدفین

عبدالملک کو جب اس کی خبر ہوئی کہ حضرت اسماءؓ نے لاش مانگی مگر حجاج نے دینے سے انکار کیا، تو اس نے اس کو نہایت غضب آٓلودہ خط لکھا کہ تم نے لاش اب تک کیوں نہ حوالہ کی اس ڈانٹ پر اس نے لاش دیدی اورغمزدہ ماں نے غسل دلا کر اپنے نور نظر کو مقام حجوں میں سپرد خاک کیا، شہادت کے وقت ابن زبیرؓ کی عمر ۷۲ سال تھی، مدت خلافت سات برس ۔
علامہ شبلیؒ نے حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کی شہادت اورحضرت اسماءؓ کے غیر معمولی صبر واستقلال کو نہایت موثر پیرایہ میں نظم کیا ہے، اس مقام پر ان کا نقل کرنا بے محل نہ ہوگا، فرماتے ہیں:
مسند آرائے خلافت جو ہوئے ابن زبیرؓ              سب نے بیعت کیلئے ہاتھ  بڑھائے یکبار
ابن مروان نے حجاج کو بھیجاپئے جنگ             جس کی تقدیر میں مرغان حرم کا تھا شکار
حرم کعبہ میں محصور ہوئے ابن زبیر               فوج بید ین نے کیا کعبہ ملت کا حصار
دامن عرش ہوا جاتا تھا آلودۂ گرد                   بارش سنگ سے اٹھتا تھا جو رہ رہ کے غبار
تھا جو سامانِ رسد چار طرف سے مسدود           ہر گلی کوچہ بناجاتا تھا اک کنج مزار
جب یہ دیکھا کوئی ناصر ویاورنہ رہا                 ماں کی خدمت میں گئے ابن زبیرؓ آخر کار
جاکے کی عرض کہ اے اخت حریم نبوی    نظر آتے نہیں اب حرمت دیں کے آثار
آپ فرمائیے اب آپ کا ارشاد ہے کیا                کہ میں ہوں آپ کا اک بندۂ فرمانبردار
صلح کرلوں کہ چلا جاؤں حرم سے باہر              یا یہیں رہ کے اسی خاک پہ ہوجاؤ ں نثار
بولی وہ پردہ نشیں حرم سر عفاف                   حق پہ گر تو ہے پھر صلح ہے مستوجب عار
یہ زمیں ہے وہی قربان گہ اسماعیلؑ                فدیہ نفس ہے خود دین خلیلی کا شعار
ماں سے رخصت ہوئے یہ کہہ کے بآدب ونیاز      آپ کے دودھ سے شرمندہ نہ ہونگا زنہار
پہلے ہی حملہ میں دشمن کی الٹ دیں فوجیں         جس طرف جاتے تھے یہ ٹوٹتی جاتی تھی قطار
منجنیقوں سے برستے تھے جو پتھر پیہم              ایک پتھر نے کیا آکے سر درخ کو فگار
خوں ٹپکا جو قدم پر تو کہا از رہ فخر                    یہ ادا وہ ہے کہ ہم ہاشمیوں کا ہے شعار
اس گھرانے نے کبھی پشت پہ کھایا نہیں زخم        خون ٹپکے گا تو ٹپکے گا قدم پر ہربار
زخم کھا کھا کے لڑے جاتے تھے لیکن کب تک     آخر الامر گرے خاک پہ مجبور ونزار
لاش منگوا کے جو حجاج نے دیکھی تو کہا              اس کو سولی پہ چڑھا کہ یہ تھا قابل دار
لاش لٹکی رہی سولی پہ کئی دن لین                  ان کی ماں نے نہ کیا رنج والم کا اظہار
اتفاقات سے اک دن جو ادھر سے نکلیں            دیکھ کر لاش کو بیساختہ بولیں اک بار
ہوچکی دیر کہ منبر پہ کھڑا ہے یہ خطیب
اپنے مر کب سے اترتا نہیں اب بھی یہ سوار

Share this article :

Post a comment

 

Copyright © 2011. Al Asir Channel Urdu Islamic Websites Tarjuman Maslak e Deoband - All Rights Reserved
Template Created by piscean Solutions Published by AL Asir Channel
Proudly powered by AL Asir Channel