Home » » Barelwi Yahodiyon k Naqshe Qadam Par 5, 6, رضاخانی تحریف نمبر 4,

Barelwi Yahodiyon k Naqshe Qadam Par 5, 6, رضاخانی تحریف نمبر 4,


رضاخانی تحریف نمبر 4
حضرت شیر محمد شرقپوری صاحب کے حالات میں ان کے خادم خاص جناب صوفی محمد ابراہیم صاحب لکھتے ہیں:
مولانا مولوی انور علی شاہ صاحب صدر مدرسہ دیوبند ہمراہ مولوی احمد علی صاحب مہاجر لاہوری شرق پور شریف حاضر ہوئے اور حضرت میاں صاحب علیہ الرحمة کو بڑی ارادت سے ملے آپ ان سے کچھ باتیں کرتے رہے اور شاہ صاحب خاموش رہے۔پھر آپ نے مولانا انور شاہ صاحب کو بڑی عزت سے رخصت کیا ۔موٹر اڈے تک حضرت میاں صاحب خود سوار کرنے کیلئے تشریف لائے ۔شاہ صاحب نے میاں صاحب علیہ الرحمة سے کہا ۔آپ میری کمر پر ہاتھ پھیر دیں ۔آپ نے ایسا ہی کیا اور رخصت کرکے واپس مکان پرتشریف لے آئے۔بعد ازاں آپ نے بندے سے فرمایا شاہ صاحب بڑے عالم ہوکر اور پھر میرے جیسے خاکسار سے فرمارہے تھے کہ میری کمر پر ہاتھ پھیردیں ۔اور حضرت میاں صاحب علیہ الرحمة نے فرمایا دیوبند میں چار نوری وجود ہیں ان میں سے ایک شاہ صاحب ہیں
(خزینہ معرفت ،باب 13،ص 384،مکتبہ سلطان عالمگیر اردو بازارلاہور )
مگر جدید طبع میں اس پور ی عبارت کو حذف کردیا گیا ۔بعض ناشرین کی غفلت کو علمائے دیوبند کی علمی خیانت کہنے والوں کو کیا یہ تحریف اور بددیانتیاں نظر نہیں آتیں۔۔؟؟جواب دیں
یہ وہ مقام ہے کہ جہاں سوچنا پڑا
اب خودکشی کریں کے حوالے لکھا کریں
رضاخانی تحریف نمبر 5
علامہ قسطلانی ؒ بخاری شریف کی شرح میں لکھتے ہیں کہ:
و قول الداودی ما اظن قولہ فی ھذہ الطریق من حدثک ان محمد ا یعلم الغیب محفوظا وما احد یدعی ان رسول اللہ کان یعلم من الغيب الا ما علمہ اللہ قد متعقب بان بعض من لم یرسخ فی الایمان کان یظن ذالک حتی کان یرای ان صحة النبوة تستلزم اطلاع النبی علی جمیع المغیبات ففی مغازی ابن اسحاق ؒ ان ناقتہ ضلت فقال ابن الصلیت ۔۔۔۔۔ یزعم محمد انہ نبی و یخبرکم عن خبر السماءوھو لایدری این ناقتہ فقال النبی ان رجلا یقول کذا وکذا و انی واللہ لااعلم الا ما علمنی اللہ وقد دلنی اللہ علیھا و ھی فی شعب کذا قد حبستھا شجرة فذھبوا فجاوا بھا فاعلم انہ لا یعلم من الغیب الا ما علمہ اللہ ۔
(ارشاد الساری ،ج10،ص 296)
امام داودی کا یہ کہنا کہ اس سند میں یہ قول محفوظ نہیں ہے کہ جو شخص تجھے یہ کہے کہ آپ غيب جانتے تھے کیونکہ ایسا تو کوئی شخص نہ تھا جو یہ دعوی کرتا کہ حضور ﷺ علیہ السلام کو علم غيب حاصل تھا مگر جتنا اللہ تعالی نے آپ کو علم دیا تھا (قسطلانی ؒ کہتے ہیں کہ) داودی کا یہ قول مردود ہے کیونکہ بعض وہ لوگ جن کا ایمان راسخ نہیں تھا (یعنی وہ منافق تھے)وہ خیال کرتے تھے حتی کہ ان کہ ان کا نظریہ یہ تھا کہ نبوت کی صحت اس کو مستلزم ہے کہ نبی کو تمام مغيبات پر اطلاع ہو چنانچہ ابن اسحاق کے مغازی میں یہ واقعہ مشہور ہے کہ ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ کی اونٹنی گم ہوگئی تو ابن صلیت منافق نے کہا کہ محمد(ﷺ)گمان کرتا ہے کہ وہ نبی ہے اور تمھیں آسمان کی خبریں بتاتا ہے اور وہ یہ نہیں جانتے کہ ان کی اونٹنی کہاں ہے؟آنحضرت ﷺ نے فرمایا ایک شخص ایسا اور ایسا کہتا ہے اور خدا کی قسم میں نہیں جانتا مگر صرف وہی جو کچھ اللہ تعالی نے مجھے بتاياہے کہ اونٹنی فلاں گھاٹی میں ہے اور ایک درخت میں پھنسی ہوئی ہے جب لوگ وہاں گئے تو اس اونٹنی کو وہاں سے لے آئے تو آنحضرت ﷺ نے صاف بتاديا کہ میں غيب نہیں جانتا مگر صرف اتنا ہی جتنا مجھے اللہ بتائے۔
کہ علامہ قسطلانی رحمة اللہ علیہ یہ فرمارہے ہیں کہ وہ لوگ جو ایمان میں راسخ نہیں وہ یہ سمجھتے ہیں کہ نبی کی نبوت کی صحت اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ جمیع مغيبات پر مطلع ہو۔اب ذرا بریلوی مناظر اعظم جنید زماں کی علمی دیانت بھی ملاحظہ ہو کہ وہ علم غيب پر استدلال کرتے ہوئے انتہائی بدیانتی کاثبوت دے کر اپنے کمال کو چار چاند لگاتے ہوئے بزرگان دین کی عبارات سے اپنا موقف ثابت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:
قسطلانی ج10،ص 356 ان صحة النبوة تستلزم اطلاع النبی علی جمیع المغيبات بے شک نبی کی صحت مستلزم ہے کہ تمام مغيبات پر نبی ﷺ کو اطلاع ہو۔ (مقیاس حنفیت ،ص ۷۸۳،المقیاس پبلشرزدربار مارکیٹ لاہور)
آپ نے دیکھا کہ علامہ قسطلانی ؒکی یہ عبارت کہ یہ عقیدہ ایمان میں راسخ نہ ہونے والوں کا ہے کو بالکل ہضم کرکے مولوی عمر اچھروی عبارت میں قطع و برید کرکے کس طرح اپنا جھوٹا مسلک ثابت کررہے ہیں؟؟ حيف ہے ایسی دیانت پر اور افسوس ہے ان لوگوں پر جو ایسے بددیانتوں کو رہبر تسلیم کئے ہوئے ہیں اور اپنے گھر کی خبر نہیں رکھتے دوسروں پر اعتراض کرتے ہیں۔
تجھے دوسروں کی آنکھ کاتنکا تو نظر ٓاتا ہے
ذرا اپنی آنکھ کا شہتیر بھی دیکھ لے اے غافل
ایک ہی کتاب میں تحریفات کا عالمی ریکارڈ
بریلوی مذہب کے بانی مولوی احمد رضاخان کے ”ملفوظات“ اس کے بيٹے مولوی مصطفی رضاخان نے جمع کئے اور ان کوشائع کروایاجب یہ ملفوظات شائع ہوکر عوام کے سامنے آئے تواہل علم یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ان ملفوظات میں جگہ جگہ اللہ اور اس کے رسول ﷺکی توہین اور من گھڑت واقعات وحکایات کی بھرمار ہے۔چنانچہ اہلسنت نے ان گستاخانہ عبارات پر اعتراضات کئے اور اہل بدعت سے ان کی وضاحت طلب کی ۔۔اب ہونا تو یہ چاہئے تھاکہ یہ لوگ ان گستاخیوں سے توبہ کرتے اور احمد رضاخان سے برات کا اظہار کرتے ۔۔لیکن انھوں نے ان گستاخیوں کوجوازفراہم کرنے کیلئے طرح طرح کی تاویلیں شروع کردیں۔مگر جب ہر طرح سے ان کا محاسبہ کیا گيا توبریلوی حضرت نے ان گستاخیوں پر پردہ ڈالنے کیلئے انتہائی بھونڈی حرکت کرتے ہوئے ان میں تحريف کردی۔ حال ہی میں ”بریلوی دعوت اسلامی“ والوں نے اپنے امیر ”مولوی الیاس قادری“ کی ایماءپر جب ملفوظات کا جدید ایڈیشن شائع کیا توان میں ان سب عبارات کو یاتو سرے سے حذف کردیا یا ان میں اس طرح رد و بدل کردیاکہ ان پر کوئی اعتراض وارد نہ ہواور گوياقريبا سوسول بعد اپنے ”آلہ حضرت“ کی اصلاح کردی۔صرف اس ایک کتاب میں اتنے مقامات پر تحریف کی گئی ہيں کہ اگر انھیں ورلڈ رریکارڈ کیلئے پیش کیا جائے تو پوری دنیا میں اس کتاب کی اول پوزیشن آئی گی ملاحظہ ہوں چند تحریفات :
رضاخانی تحریف 6
ملفوظات کی اصل عبارت
مولوی احمد رضاخان اپنے ایک پیر بھائی برکات احمد کے جنازے کی کیفيت بيان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ:
جب ان کا انتقال ہوااور میں دفن کے وقت ان کی قبر پر گزراتو مجھے بلا مبالغہ وہ خوشبو محسوس ہوئی جوپہلی بار روضہ انور کے قريب پائی تھی ان کے انتقال کے دن مولوی سید امیر احمد صاحب مرحوم خواب میں زيارت اقدس ﷺسے مشرف ہوئے کہ گھوڑے پر تشریف لئے جاتے ہیں عرض کی یا رسول اللہ !حضور کہاں تشريف لئے جاتے ہیں فرمایا برکات احمد کی جنازے کی نماز پڑھنے الحمد للہ یہ جنازہ مبارکہ میں نے پڑھایا ۔یہ وہی برکات احمد ﷺتھیں کہ محبت پیر و مرشد کے سبب انھيں حاصل ہوئیں-ملفوظات ،حصہ دوم،ص142
اس ملفوظ کی عبارت پر غور فرمائیں کہ کس قدر گستاخی کی گئی ہے کہ معاذ اللہ حضور ﷺکواپنا مقتدی اور مولوی احمد رضاخان خود کو حضور ﷺکاامام بنا کر اس پر اللہ کاشکر ادا کررہے ہیں افسوس وہ ذات جو امام الانبیاءہے اسے احمد رضاخان کا مقتدی بنانے پر فخر کیا جارہا ہے ۔اب دیکھیں کہ اس میں کس طرح تحريف کردی گئی ہے۔
بریلوی دعوت اسلامی کے غازيوں کا کارنامہ
جب ان کا انتقال ہوااور میں دفن کے وقت ان کی قبر پر گزراتو مجھے بلا مبالغہ وہ خوشبو محسوس ہوئی جوپہلی بار روضہ انور کے قريب پائی تھی ان کے انتقال کے دن مولوی سید امیر احمد صاحب مرحوم خواب میں زيارت اقدس ﷺسے مشرف ہوئے کہ گھوڑے پر تشریف لئے جاتے ہیں عرض کی یا رسول اللہ !حضور کہاں تشريف لئے جاتے ہیں فرمایا برکات احمد کی جنازے کی نماز پڑھنے ۔یہ وہی برکات احمد ﷺتھیں کہ محبت پیر و مرشد کے سبب انھيں حاصل ہوئیں-ملفوظات ،حصہ دوم،ص142
غور فرمائیں بيچ میں سے متنازعہ فیہ عبارت ” الحمد للہ یہ جنازہ مبارکہ میں نے پڑھایا “ کو بالکل حذف کردیا گيا۔ کیوں۔۔؟؟؟ یہ فیصلہ آپ نے کرنا ہے۔
Share this article :

Post a comment

 

Copyright © 2011. Al Asir Channel Urdu Islamic Websites Tarjuman Maslak e Deoband - All Rights Reserved
Template Created by piscean Solutions Published by AL Asir Channel
Proudly powered by AL Asir Channel