Home » » Barelwi Yahodiyon k Naqshe Qadam Par 29, 30, رضاخانی تحریف نمبر 28,

Barelwi Yahodiyon k Naqshe Qadam Par 29, 30, رضاخانی تحریف نمبر 28,


رضاخانی تحریف28
ایک رضاخانی رسالے کے کچھ صفحات فقیر کی نظر سے گزرے جس میں ایک جگہ شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا رحمة اللہ علیہ کی فضائل صدقات ص 340 کا حوالہ دے کر کہا گیا کہ انھوں نے ایک حدیث نقل کی اس میں رسول ﷺ کا لفظ بھی تھا مگر حضرت شیخ الحدیث نے اس کو نقل نہیں کیا یہ تحریف ہے اور اس بنیاد پر انھیں معاذ اللہ ”خبیث دیوبندی“اور ”شیطانی توحید“ والا کہا گیا۔۔حالانکہ اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ یہ لفظ کاتب سے رہ گیا ہو کاتب کوئی بریلوی ہو جس نے یہ ”خباثت“ کی ہو یہ بھی احتمال ہے کہ حضرت شیخ الحدیث رحمة اللہ علیہ وہاں روايت بالمعنی کررہے ہوں اور روايت بالمعنی کیلئے تمام الفاظ کا بعینہ نقل کرنا ضروری نہیں۔۔یہ بھی احتمال ہے کہ حضرت شیخ الحدیث رحمة اللہ علیہ سے یہ لفظ سہوا رہ گیا ہو چنانچہ مولوی نصیر الدین سیالوی بریلوی لکھتا ہے کہ :
حضرت عمر ؓ کی بزرگی جلالت علمی قوت حافظہ کو تو سارے تسلیم کرتے ہیں بلکہ سارے اولیاءکرام بھی ان کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتے ان کا واقعہ بخاری شریف میں منقول ہے کہ جب ایک آدمی نے ان سے پوچھا کہ میں جنبی ہوں گایا ہوگیا ہوں اور پانی دستےاب نہیں کیامیں تیمم کرسکتا ہوں حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ جب تک پانی نہ ملے نماز نہ پڑھو تمہار ے لئے تیمم کی اجازت نہیں حضرت عمار بن یاسر نے یا د دلایا کہ میں اور آپ اکھٹے تھے ہمیں جنابت لاحق ہوگئی تھی تو آپ نے نماز نہیں پڑھی تھی جب کہ میں نے زمین میں لوٹ پوٹ ہوکر پورے جسم کو مٹی میں ملوث کردیا تھااس کے بعدحضور علیہ السلام نے مجھے تیمم کا طریقہ سکھایا تھا۔حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ مجھے تو یا د نہیں ہے۔(بخاری شریف ،ج1، ص84)
حضرت عمر جیسی ہستی کو جب نسیان ہوسکتا ہے تو بعد میں آنے والوں کو جو ان کی گردراہ کو بھی نہیں پاسکتے نسیان کیوں نہیں ہوسکتا۔ (عبارا ت اکابر کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ ،حصہ اول ،ص 393)
غور فرمائیں یہاں نصیرالدین سیالوی صاحب یہ کہنا چاہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نسیان کے مریض تھے معاذ اللہ جس کی وجہ سے ان کو اپنی ہی بیان کردہ حدیث یاد نہیں رہی توکیا آج کے یہ رضاخانی ملاں جو محض علمائے اہلسنت سے تعصب کی بنیاد پر حدیث میں صرف ایک لفظ رہ جانے کی وجہ سے حضرت شیخ الحدیث رحمة اللہ علیہ کو معاذ اللہ ”خبيث “ جیسے الفاظ سے ياد کررہے ہیں وہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ پر کیا فتوی لگائیں گے۔۔۔؟؟؟کیا ان میں اتنی اخلاقی جرات ہے کہ حضرت عمر ضی اللہ تعالی عنہ پر بھی ایک مضمون اسی قسم کا لکھ دیں اور اسی قسم کا تبصرہ ان پر بھی کردیں ۔۔۔؟؟؟
صداقت لا نہیں سکتی تاب مصلحت کوشی
جو کچھ کہنا ہو بے باکانہ کہئے برملا کہئے
اگر کسی حدیث کو بیان کرنے میں کوئی لفظ چھوٹ جانا معاذ اللہ خباثت اور شیطانیت کی علامت ہے تو آئے ہم ثابت کرتے ہیں کہ سب سے بڑا خبيث اور شیطان کون ہے۔
مولوی احمد رضاخان نے ایک حدیث یوں نقل کی:
رواہ الامام محمد فی کتاب الآثار قال اخبرنا ابو حنیفة و رواہ عبد الرزاق فی مصنفہ (الی ان قال)عن عائشة رضی اللہ عنھا انھا امراة یکدون راسھا بمشط ۔۔(فتاوی رضویہ ج9ص165)
اس حدیث کے نقل کرنے میں احمد رضاخان نے جس خطرناک غلطی اور تحریف کا ارتکاب کیا ہے اسکی نشاندہی خود بریلوی مولوی نذیر احمدسعیدی نے ان لفظوں میں کی ہے
کتاب الآثار اور مصنف عبد الرزاق دونوں کتابوں میں بمشط کا لفظ نہیں ہے بلکہ کتاب الآثار میں رات میتتا یسرح راسھا اور مصنف میں رات امراة یکدون راسھا ہے(حوالہ مذکورہ بالا)
رضاخانی تحریف29
ایک اور حدیث خان جی ان الفاظ میں نقل کرتے ہیں:
فصففنا خلفہ صفین ومانری شیئا(فتاوی رضویہ مج9،ص 350)
اس حدیث میں احمد رضاخان صاحب المختار کی جانب سے تحریف و تبدیلی کی نشاندہی مولوی سعیدی ان الفاظ میں کرتا ہے
معجم کبیر میں مجمع ابن جاریہ کی حديث کے تحت بحوالہ ابن ابی شیبہ حدیث کے الفاظ یوں ہیں:
فصففنا خلفہ صفين اس میں ما نری شیئاکے الفاظ نہیں ہیں ملاحظہ ہو معجم کبیر حديث نمبر 1086،ج19،ص 446۔
(حوالہ مذکورہ بالا)
رضاخانی تحریف 30
ایک اور حدیث خان صاحب یوں تحریر کرتے ہیں
رسول فرماتے ہیں من دعا الی الھدی فلہ اجرہ و اجر من تبعہ (فتاوی رضویہ ج5،ص 385)
اس حديث میں تحریف کی نشاندہی کرتے ہوئے مولوی نذیر لکھتے ہیں
نوٹ:مسلم شریف کے الفاظ یوں ہیں من دعا الی الھدی کان لہ من الاجر مثل اجور من تبعہ لا ینقص ذالک من اجورھم شیئا۔(حوالہ مذکورہ بالا)
Share this article :

Post a comment

 

Copyright © 2011. Al Asir Channel Urdu Islamic Websites Tarjuman Maslak e Deoband - All Rights Reserved
Template Created by piscean Solutions Published by AL Asir Channel
Proudly powered by AL Asir Channel