Home » » Barelwi Yahodiyon k Naqshe Qadam Parرضاخانی تحریف نمبر 10.11.12,

Barelwi Yahodiyon k Naqshe Qadam Parرضاخانی تحریف نمبر 10.11.12,

رضاخانی تحریف10
ملفوظات کی اصل عبارت
مولوی احمد رضاخان نے ملفوظات کے صفحہ 221 حصہ دوم میں کھانے پر بسم اللہ بھول جانے پھر یاد آنے کی دعا غلط بتائی جو اس طرح ہے ”بسم اللہ علی اولہ و اخرہ“ حالانکہ صحيح دعا ”بسم اللہ اولہ وآخرہ“ ملفوظات کے تمام ایڈیشنز میں یہ دعا اسی طرح موجود ہے ۔جدید ایڈیشن میں ”آلہ حضرت“ کی اصلاح کرتے ہوئے اس دعا کوصحيح لکھ دیا گےا ہے ۔ملاحظہ ہو ملفوظات حصہ دوم ص294۔
رضاخانی تحریف 11
ملفوظات کی اصل عبارت
مولوی احمد رضان خان ایک جگہ ملفوظات میں علمائے اہلسنت سے اپنے بغض کا اظہار یوں فرماتے ہیں کہ
ايسے ہی وہابی ،قادیانی،دیوبندی ،نیچری ،چکڑالوی،جملہ مرتدین ہیں کہ ان کے مرد یا عورت کاتمام جہاں میں جس سے نکاح ہوگا مسلم ہو یا کا فر اصلی یا مرتد انسان ہو یا حيوان محض باطل اور زنا خالص ہے۔﴾ملفوظات حصہ دوم ،ص227﴿
غور فرمائیں یہاں احمد رضاخان پر دیوبند سے دشمنی کاایسا خبط سوار ہوا کہ ہیجانی کیفیت میں یہاں تک کہہ گئے کہ ان کا نکاح ”جانور“ سے بھی نہیں ہوتا۔گويا احمد رضاخان صاحب کے مذہب میں جانوروں سے نکاح حلال و جائز ہے اس لئے دیوبندیوں پر حرام فرمارہے ہیں۔
بریلوی دعوت اسلامی کے غازيوں کا کارنامہ
دعوت اسلامی کے غازيوں نے احمد رضاخان کے اس شرمناک فتوے پر پردہ ڈالے کیلئے اس لفظ کوحذف کردیا اور اب عبارت اس طرح ہے کہ :
ايسے ہی وہابی ،قادیانی،دیوبندی ،نیچری ،چکڑالوی،جملہ مرتدین ہیں کہ ان کے مرد یا عورت کاتمام جہاں میں جس سے نکاح ہوگا مسلم ہو یا کا فر اصلی یا مرتد محض باطل اور زنا خالص ہے-ملفوظات حصہ دوم ص 300
غور فرمائیں کہ ”انسان ہو یاحيوان“ کوحذف کردیا گيا کیوں۔۔فیصلہ آپ نے کرنا ہے۔
رضاخانی تحریف12
ملفوظات کی اصل عبارت
حضرت سےدی احمد بدوی کبیر کے مزار پر بہت بڑامیلہ اور ہجوم ہوتا تھا۔اس مجمع میں چلے آتے تھے ایک تاجر کی کنیز پر نگاہ پڑی فورا نگاہ پھیر لی کہ حديث میں ارشاد ہوا النظرة الاولی لک والثانیة علیک پہلی نظر تيرے لئے ہے اور دوسری تجھ پر یعنی پہلی نظر کاکچھ گناہ نہیں اور دوسری کامواخذہ ہوگا ۔خیر نگاہ توآپ نے پھیر لی مگر وہ آپ کو پسند آئی جب مزار شریف ہر حاضر ہوئے ارشاد فرمایا عبد الوہاب وہ کنیز پسند ہے عرض کی ہاں اپنے شیخ سے کوئی بات چھپانا نہ چاہئے ارشاد فرمایا اچھا ہم نے تم کو وہ کنیزہ ہبہ کی۔اب آپ سکوت میں ہیں کہ کنیز تو اس تاجر کی ہے اور حضور ہبہ فرماتے ہیں معا و ہ تاجر حاضر ہوا اور اس نے وہ کنیز مزار اقدس کی نذر کی۔خادم کو اشارہ ہوا انھوں نے آپ کی نذر کردی ارشاد فرمایا عبد الوہاب اب دیر کاہے کی فلاں حجرے میں لے جاؤ اور اپنی حاجت پوری کرو۔﴾ملفوظات حصہ دوم ،ص 273,274﴿
قارئین کرام غور فرمائیں اس من گھڑٹ حکايت سے کس طرح یہ باور کروایا جارہا ہے کہ ولی ایک کنیز پر عاشق ہوگيا وہ بھی کسی اور کی پھر غورفرمائیں وہ تاجر اس کنیز کو مزار کی نذر کرتا ہے حالانکہ شرعی طور پر یہ وقف جائز نہیں کہ مزار میں ”ملکیت“ کی شرط نہیں پائی جاتی گويا ہبہ غير شرعی پھر غور فرمائیں اس غير شرعی ہبہ کو آگے پھر ہبہ کیا جاتاہے اور کہاکہ فلاں حجرے میں لے جاؤگويا مزار نہ ہوا عورتوں کی خرید و فروخت کا کوئی مرکز ہوگيا۔بجائے یہ کہ بریلوی حضرات اس بيہودہ حکایت سے برات کااظہار کرتے ۔بریلویوں نے سرے سے اس ملفوظ کو ہی غائب کردیا۔
بریلوی دعوت اسلامی کے غازیوں کا کارنامہ
جدید ایڈیشن میں اس پوری عبارت کوہی حذف کردیا گيا ہے۔ملاحظہ ہو حصہ دوم ص 361۔

Share this article :

Post a comment

 

Copyright © 2011. Al Asir Channel Urdu Islamic Websites Tarjuman Maslak e Deoband - All Rights Reserved
Template Created by piscean Solutions Published by AL Asir Channel
Proudly powered by AL Asir Channel