Home » » Barelwi Yahodiyon k Naqshe Qadam Par 26, 27, رضاخانی تحریف نمبر 25,

Barelwi Yahodiyon k Naqshe Qadam Par 26, 27, رضاخانی تحریف نمبر 25,


رضاخانی تحریف25
بریلوی خطیب پاکستان شفیع اوکاڑوی نے سیاہ خضاب کی حلت پر ایک کتابچہ ”مسئلہ سیاہ خضاب“ لکھا اور ضیاءالقرآن پبلیکیشنز والوں نے شائع کروایا اس کتابچے کا جواب الجواب بریلوی مذہب کے حکیم جی احمد یار گجراتی کے لڑکے اور جانشین اقتدار احمد خان نے ”حرمت سیا ہ خضاب“ کے نام سے لکھا اس میں شفیع اوکاڑوی صاحب کی خیانتوں اور تحریفات کا ذکر کرتے ہوئے ایک جگہ حدیث رسول ﷺ میں شفیع اوکاڑوی صاحب کی لفظی تحریف کی نشاندہی کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
اب اندازہ لگاو کہ صرف اپنے باطل جھوٹے بے ہودہ مذہب کو بچانے کیلئے حدیث مبارکہ کے اصل لفظ مٹا کر جنبوہ کردیا۔ اسی کو ابلیسی شرارت کہتے ہیں۔دنیوی اعتبار سے کتنا آسان ہے کہ جس حدیث کو چاہا توڑ پھوڑ دیا اور اپنا جھوٹا مذہب بنا لیا۔
حرمت سیاہ خضاب ،ص 121
غور فرمائیں جولوگ نبی کریمﷺ کی احادیث میں تحریف کردینے سے نہ شرمائیں ان سے اپنے اکابرین کی کتابوں میں تحريفات کردینے پر گلہ کرنا ہی فضول ہے۔
رضاخانی تحریف26
اسی کتاب میں ایک جگہ شفیع اوکاڑوی صاحب کی طرف سے موطا امام مالک کی ایک عبارت کا جواب دیتے ہوئے ان کی بد دیانتی کا گلہ ان الفاظ میں کیا جاتا ہے :
مصنف نے اپنی پیش کردہ عبارت میں لفظی خیانت کے علاوہ ترجمہ بھی غلط کیا۔معلوما کا ترجمہ قطعی روايت کرتے ہیں اور اگلی پچھلی عبار ت جو ان کے مخالف ہے اس کو چھوڑ جاتے ہیں۔(حرمت سیاہ خضاب ،ص 60،نعیمی کتب خانہ ،2009)۔
رضاخانی تحریف 27
بڑہیچ قبيلے کے خان جی احمد رضاخان صاحب نے حدائق بخشش نامی نعتیہ کتاب لکھی جس کے تین حصے ہیں۔اس کا اول اور دوم حصہ تو مل جاتا ہے اور تیسرا حصہ عام نہیں ملتا ۔اس میں خان صاحب یہ عنوان قائم کرتے ہیں:
قصیدہ در مناقب ام المومنین محبوبہ سید المرسلین حضرت سیدنا صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ
پھر اس سلسلہ میں یہ بھی کہتے ہیں
تنگ وچست ان کا لباس اور وہ جوبن کا ابھار مسکی جاتی ہے قبا سر سے کمر تک لے کر
یہ پھٹا پڑتا ہے جو بن میرے دل کی صورت کہ ہوئے جاتے ہیں جامہ سے بیروں سینہ و بر
حدائق بخشش ،حصہ سوم ص 37
ان گستاخانہ اور انتہائی دل آزار اشعار پرجب اہلسنت کی طرف سے اعتراض ہوا تو بجائے اس پر توبہ کرنے کے۔۔ احمد رضاخان پر کوئی فتوی لگانے کے بریلویوں نے بدترین خیانت اور بددیانتی کامظاہرہ کرتے ہوئے اس حصہ کو ہی غائب کردیا اور اسے چھاپنا بند کردیا اور یہ مشہور کردیا کہ یہ حصہ مولوی احمد رضاخان صاحب کا ہے ہی نہیں حالانکہ بریلوی اکابرین نے حدائق بخشش حصہ سوم کو احمد رضاخان کے اشعارکامجموعہ تسلیم کیا ہے ملاحظہ ہو:
(حیات امام اہلسنت ،ص49،مشرق کا فراموش کردہ نابغہ،ص22،امام احمد رضا اور علوم جدیدہ و قدیمہ ،ص 52،53،عبقر ی الشرق ،ص 52عاشق الرسول مولانا عبد القادری بدیوانی ،ص 17،18
ہمارا سوال ہے کہ بریلویوں سے کہ وہ کیوں علمی خیانت اور تحریف کے مرتکب ہوکر اس کتاب کو عام شائع نہیں کرتے ؟؟؟۔
Share this article :

Post a comment

 

Copyright © 2011. Al Asir Channel Urdu Islamic Websites Tarjuman Maslak e Deoband - All Rights Reserved
Template Created by piscean Solutions Published by AL Asir Channel
Proudly powered by AL Asir Channel