Home » » Ahmad Raza Khan Apne Fatwon Ki Roshni Me احمد رضا خان اپنے فتووں کی روشنی میں

Ahmad Raza Khan Apne Fatwon Ki Roshni Me احمد رضا خان اپنے فتووں کی روشنی میں


یایها الذ ین امنوا ان جآکم فاسق بنا فتبینوا
اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق خبرلائے تو تحقیق کر لیا کرو (الحجرات)
آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے سیدنا حضرت معاد بن جبل رضی اﷲ عنہ التوفی18ھ کے اس سوال کے جواب میں کہ کیا ہم زبان کی باتوں کی وجہ سے بھی پکڑے جائیں گے؟ یہ ارشاد فرمایا کہ لوگ دوزخ میں چہروں یا نتھنوں کے بل زبان کی باتوں ہی کیوجہ سے تو اوندھے ڈالے جائیں گے۔
( اوکما قال، مستدرک ج 4ص287، قال ) الحاکم والذہبی صحیح ونحوہ فی المشکوة ج1ص14
اور ايک شخص کو قبر میں عذاب ہو رہا تھا تو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ لوگوں کو زبان سے اذیت پہنچاتا تھا اور ان کی چغلی کیا کرتا تھا۔
(او کماقال موار الظمان ص46۔199)
تندی باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لئے
میں ناجائز غلو اور ان کی بیجا تکفیر
مولوی احمد رضا خان صاحب بریلوی کا مزاج نہایت جذباتی اور طبیعت بے حد غلو پسند اور متعصبانہ تھی ان کی عبارات میں اس امر کا واضح تر ثبوت موجود ہے اپنے مخالفین اور خصوصا علما دیوبند کی تکفیر میں جو طریق انہوں نے اختیار کیا ہے عالم تو درکنار دنیا کاشریف انسان بھی اس کو اختیار نہیں کر سکتا کہ ان کی مراد اور نیت کے خلاف ان کی عبارات کا مطلب ازخود تراشے اور بزورکشید کر کے ان پر کفر کا فتوی لگائے۔ اور پھر ان کی تکفیر نہ کرنے والوں بلکہ شک کرنے والوں کو بھی کافر قرار دے۔ حالانکہ اکابر علماء دیوبند چلا چلا کر کہتے اور لکھتے رہے ہیں کہ جو مطلب تم نے بیان کیا ہے جو جو مراد تم لے رہے ہو ہماری ہرگز نہیں اور نہ ہم اس کو صحیح سمجھتے ہیں بلکہ ہم اس کو کفر سمجھتے ہیں۔
انصاف اور دیانت کا تقاضا تو يہ تھا کہ احمد رضا خان صاحب اس کے بعد ان کی تکفیر سے باز آجاتے اور علماء دیوبند سے معافی مانگ ليتے کہ ميں نے غلط سمجھا تھا اور میں اپنے سابق غلط فتوی سے رجوع کرتا ہوں۔ لیکن خانصاحب نے مرتے دم تک اپنی ضد نہیں چھوڑی اور اکابر علماء دیوبند کی ناروا تکفیر سے باز نہیں آئے۔ ان کی چند عبارات ملاحظہ کریں۔ چنانچہ لکھتے ہیں۔
1۔ ”غلام احمد قادیانی اور رشید احمد اور جو اس کے پیروہوں جیسے خلیل احمد ببیٹھی اور اشرف علی وغیرہ ان کے کفر میں کوئی شک و شبہ نہیں نہ شک کی مجال بلکہ جو ان کے کفر میں شک کرے بلکہ کسی طرح کسی حال میں انہیں کافر کہنے میں توقف کرے اس کے کفر میں بھی شبہ نہیں“
حسام الحرمین ص131،فتاوی افریقہ109
اس کامطلب يہ ہوا کہ بجز چند بریلوی حضرات کے جن خانصاحب کی اس تکفیر میں ان کے پیرو ہیں باقی جملہ بریلوی بھی ان کے فتوی کی رو سے کافر ہیں کیوں کہ بیشتر بریلوی حضرات علماءدیوبند کی تکفیر نہیں کرتے اور انہیں کافر کہنے میں توقف کرنےوالے تو بے شمار ہیں۔
دوسرے مقام پر وہ لکھتے ہیں کہ :
نذیر حسین دہلوی وامیر احمد سہسوانی و امیر حسن سہسوانی وقاسم نانوتوی ومرزا غلام احمد قادیانی و رشید احمد گنگوہی و اشر ف علی تھانوی اور ان سب کے مقلدین ومتبعین وپیروان ومدح خوان باتفاق علماء اعلام کافر ہوئے اور جن ان کو کافر نہ جانے ان کے کفر میں شک کرے وہ بھی بلاشبہ کافر ہے۔
(عرفان شریعت حصہ دوم ج29، وراجع ملفوظات حصہ اول ص115)
اور فتاوی افریقہ میں اس عنوان سے سرخی قائم کی گی ہے۔
”دیوبندیوں کے بارے میں مسلمانوں سے آخری اپیل“ جو انہیں کافر نہ کہے جو ان کاپاس لحاظ رکھے جو ان کے استادی یا رشتے یا دوستی کا خیال رکھے وہ بھی انہیں میں سے ہے انہیں کی طرح کافر ہے قیامت میں ان کے ساتھ ايک رسی میں باندھا جائے گا“۔ ص115
اس وقت پاکستان وہندوستان وغیرہ میں جہاں بریلوی ذہن کے لوگ موجود ہیں کوئی خاندان اور قوم ایسی نہیں بتائی جا سکتی جن کے دیوبندی مسلک رکھنے والے حضرات سے رشتے ناطے اور دوستی نہ ہو اور بعض جگہوں میں تو استادی اور شاگردی کا تعلق بھی ہوتا ہے مگر اس فراخدلانہ فتوے کے اعتبار سے وہ سبھی لوگ کافر قرار پائے ہیں۔ غور فرمائیں کہ کفر کہ اس ایٹم بم بلکہ ہائیڈروجن بم اور زہریلے گیس سے کسی کو بھی رستگاری ہو سکتی ہے۔؟ اور کوئی بھی مسلمان عام اس سے کہ وہ کسی طبقہ سے متعلق ہو اس شاہانہ و خروانہ فتوی کی زد سے بچ سکتا ہے؟ اس سے بڑھ کر خان صاحب کے تعصب اور ہٹ دھرمی کا اور کیاثبوت درکار ہے؟ ہر مصنف مزاج اور خدا خوف آدمی ایسے ناجائز فتوے پر نفرین کيے بغیر نہیں رہ سکتا۔ خانصاحب بریلوی اسی ظالمانہ فتوے پر ہی اکتفا ءکرتے تب بھی ايک حد ہوتی مگر وہ تو اس سے بھی دو قدم آگے بڑھ کر یوں گوہر افشانی کرتے ہیں۔
4۔ ”ایسے وہابی،قادیانی،دیوبندی،نیچری،چکڑالوی جملہ مرتدین ہیں کہ ان کہ مرد یا عورت کا تمام جہاں میں جس سے نکاح ہو گا مسلم ہو یا کافر اصلی، یا مرتد انسان ہو یا حیوان محض باطل اور زنا خالص ہوگا اوراولاد ولد الزنا“
ملفوظات حصہ دوم ص 105طبع لکھنو ص100 آفسٹ لیتھوپرپش کراچی
فتوے تو خان صاحب نے دیا ہی تھا لیکن ساتھ شرافت تہذیب اور اخلاق کاجنازہ بھی نکال دیا اگر فتوے ہی صادر کرنامقصود تھا تو ایسے لوگ کافرو مرتد ہیں اور ان کا نکاح باطل ہے۔ لیکن اتنے الفاظ سے بھلا احمد رضا خان صاحب کے دل ماؤف کی بھڑاس نکل سکتی تھی ؟ اور زنا اور ولدالزنا کی تصریح کئے بغیر وہ کب چین پا سکتے تھے؟ اور غضب کی بات تو يہ ہے کہ انسانیت کے دائرہ سے نکل کر اور تجاوز کر کے انسانوں کا نکاح حیوانوں سے بھی جوڑ دیا جن میں کتے گدھے اور خنزیر تک سبھی حیوان شامل ہیں اب وہ بریلوی حضرات خود سوچ لیں جن کا نکاح کسی وہابی یا دیوبندی عورت سے ہوا ہے یا ان کی بہن بیٹی، پوتی، اور نواسی، خالہ پھوپھی وغیرہا کسی عزیزہ کا نکاح کسی دیوبندی اور وہابی سے ہوا ہے خان صاحب کہ اس ظالمانہ فتوے کے رو سے تو وہ خالص زنا ہے اور اولاد ولدالزنا اور حرامی ہے۔
اگر سچ مچ بریلوی حضرات کو خان صاحب سے عقیدت ومحبت ہے اور ان کو حق پرست عالم دین تصور کرتے ہیں تو ان کو خود اپنے اور اپنی اولاد اور اعزہ اقارب کے بارے میں يہ دو ٹوک فیصلہ کرنا ہوگا کہ یا تو وہ سچ مچ اپنے آپ کو کافر مرتد اور زانی سمجھیں اور اپنی اور اپنے تمام ایسے اعزہ و اقارب کی اولاد کو حرامی اور ولدالزنا خیال کریں۔ یا يہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم مسلمان پاکدامن اور حلالی ہیں اور اسی طرح ہماری اولاد اور اعزہ واقارب حلالی ہیں توپھر خانصاب کے اس ناروا اور خالص ظالمانہ فتوے کو جوتی کی نوک سے ٹھکرانا ہوگا۔ اب يہ بریلوی حضرات کی مرضی ہے کہ وہ کون سی شق اور صورت اختیار کرتے ہیں کیوں کہ
ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہو گی
يہ یاد رہے کہ جس دن سے اتفاء کا قلمدان خان صاحب کے بے باک ہاتھوں میں گیاہے اس روز سے تو کفر اتنا ستا ہوگیا ہے کہ اﷲ تبارک تعالی کی پناہ۔ ندوة العلماء والے کافر جو انہیں کافر نہ کہنے وہ کافر۔ علماء دیوبند کافر، جو انہیں کافر نہ کہے وہ کافر، غیر مقلدین اہلحدیث کافر، مولانا عبدالباری صاحب فرنگی محلی اور تو اور تحریک خلافت میں (انگریز کے خلاف) شرکت کے جرم میں اپنے برادران طریقت مولوی عبدالماجد صاحب بدایونی کافر۔مولوی عبدالقدیر صاحب بدایونی کافر ۔کفر کی وہ بے پناہ مشین گن چلی کہ الٰہی توبہ! بریلی کے ڈھائی نفر انسانوں کے سوا کوئی بھی مسلمان نہ رہا۔
فیصلہ کن مناظرہ ص75 طبع لائلپور۔ از مولانا محمد منظور نعمانی
اکابرعلما دیوبند کثر اﷲ تعالی جماعتہم کا اور کوئی جرم نہیں بجز اس کے کہ وہ توحید وسنت کے شیدائی اور شرک بدعت سے سخت متنفر ہیں۔ اے بادصبا ہماری طرف سے آقائے ندار سردار دوجہاں حضرت محمد صلی اﷲعلیہ وسلم کو يہ درد بھری کہانی پہنچا اور سنا دے کہ
خونے نہ کر وہ احم وکسے را نہ کشتہ ایم !
جرم است ایں کہ عاشق روئے توکشتہ ایم
نیز خان صاحب بریلوی ہی لکھتے ہیں کہ
”مرتدوں میں سب سے بدتر مرتد منافق ہے۔یہی ہے وہ کہ اس کی صحبت ہزار کافر کی صحبت سے زیادہ مضر ہے کہ مسلمان بن کر کفر سکھاتاہے خصوصاً وہابیہ،دیوبندیاں کہ اپنے آپ کو خاص اہل سنت وجماعت کہتے ،حنفی بنتے، چشتی،نقشبندی بنتے،نماز روزہ ہمارا ساکرتے،ہماری کتابیں پڑھتے پڑھاتے اور اﷲ و رسول کو گالیاں ديتے ہیں۔يہ سب سب بدتر زہر قاتل ہیں ہوشیار خبردارمسلمانو! اپنا دین وایمان بچاتے ہوئے فاﷲ خیرحافظا وھو ارحم الراحمین۔ (پڑھیئے صفدر) واﷲ تعالی اعلم۔ کتبہ عبدہ المذنب احمد رضا الخ
احمد رضا خان صاحب نے اس مکروہ عبارت میں اپنے دل ماوف کی جو بھڑاس نکالی ہے اور دیوبندیوں پر جو يہ خالص افترا اور بہتان باندھا ہے کہ وہ معاذ اﷲ تعالی ورسول اﷲ کو گالیاں ديتے ہیں وہ خان صاحب ہی کا حصہ ہو سکتا ہے اور اس کا خمیازہ وہ اب بھگت رہے ہوں گے۔ بحمد ﷲ تعالیٰ علمائے دیوبند نے آنحضرت صلی اﷲعلیہ وسلم کی ادنی ترین توہین وتنقیص نہیں کی اور وہ آپ کی معمولی توہین کو بھی کفر کہتے اور سمجھتے ہیں۔مگر خان صاحب کا ظلم ملاحظہ کیجئے کہ وہ بے دھڑک ان پر بہتان باندھتے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ محفوظ فرمائے۔
نیز خانصاحب لکھتے ہیں کہ :
اور مرتدوں میں سب سے بڑے خبیث تر مرتد منافق،رافضی،وہابی،قادیانی،نیچری چکڑالوی کہ کلمہ پڑھتے اپنے آپ و مسلمان کہتے نمازوغیرہ افعال اسلام بظاہر بجا لاتے بلکہ وہابی وغیرہ قرآن وحدیث کا درس ديتے ليتے اور دیوبندی کتب فقہ کے ماننے میں بھی شریک ہوتے بلکہ چشتی،نقشبندی وغیرہ بن کر پیری مریدی کرتے اور علما مشائخ کی نقل اتارتے اور باایں ہمہ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی توہن کرتے یا ضروریات دین سے کسی کا انکار رکھتے ہیں ان کی اس کلمہ گوئی واد ع اسلام اور افعال واقوال میں مسلمانوں کی نقل اتارنے ہی نے ان کو اخبث واضر اور ہر کافر اصلی یہودی نصرانی،بت پرست، مجوسی، سب سے بدتر کر دیا ہے کہ یہ آکر پلٹے ديکھ کر الٹے ۔الخ
احکام شریعت ج1ص69
اﷲ تعالی کے فضل وکرم سے دیوبندیوں نے نہ تو ضروریات دین میں سے کسی شے کا انکار کیا ہے اور نہ تاویل کی ہے اور نہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی بزرگ ترین ہستی کی شان اقدس میں ذرہ بھر توہین کی ہے۔ يہ خانصاحب کا بلا وجہ بعض وعداوت ہے کہ ان کو دیوبندی ہر کافر اصلی یہودی،نصرانی، بت پرست اور مجوسی سے بھی بدتر نظر آتے ہیں۔
سچ ہے کہ بھینگے کو کب صحیح حالت میں کوئی شے نظر آسکتی ہے ؟
خانصاحب کے نزديک دیوبندیوں کا ذبیحہ،محض نجس،مردار اور قطعی حرام ہے ذبح کے مسئلہ میں ايک سوال کا جواب ديتے ہوئے خانصاحب لکھتے ہیں:
الجواب: عورت کا ذبیحہ جائز ہے جب کہ ذبح صحیح طور پر کر سکے۔ یہودی کا ذبیحہ حلال ہے جب کہ نام الٰہی عزجلالہ لے کر ذبح کرے،یوں ہی اگر کوئی واقعی نصرانی ہو نہ نیچری دہریہ جیسے آج کل عام نصارے ہیں کہ نیچری کلمہ گو مدعی اسلام کا ذبیحہ تو مردار ہے نہ کہ مدعی نصرانیت کا رافضی، تبرائی،وہابی دیوبندی،وہابی غیر مقلد،قادیانی چکڑالوی،نیچری، ان سب کے ذیبحے محض نجس ومردار حرام قطعی ہیں اگرچہ لاکھ بار نام الٰہی لیں اور کيسے ہی متقی پرہیزگار بنتے ہوں کہ یہ سب مرتدین ہیں۔ ولا ذبیحہ لمرتد
(احکام شریعت حصہ اول ص68)
بریلوی حضرات کہیں نہ کہیں تو ضرور دیوبندی قصابوں کا ذبیحہ کھاتے ہوں گے اور نہ سہی تو (ولیمہ) عقیقہ اور قربانی کا گوشت برادری کے طور پر ليتے ہوں گے ۔ جن جانوروں کو دیوبندی ذبح کرتے ہیں اب يہ فیصلہ ان کے ہاتھ ہے کہ آیا وہ دیوبندیوں کو مسلمان سمجھیں اور حلال خوری پر راضی ہو جائیں۔یاخانصاحب کے فتوی پر صاد کرتے ہوئے مردار محض نجس اور قطعی حرام کھانے پر کمر بستہ رہیں۔ کیوں کہ بقول خانصاحب یہودی کا ايک دفعہ ذبیحہ پر نام الٰہی لینا اسی کی حلت کے لئے کافی ہے لیکن دیوبندی وغیرہ لاکھ مرتبہ بھی نام الٰہی لے کر ذبح کریں تو جانور بہر کیف مردار ہوگا۔
Share this article :

Post a comment

 

Copyright © 2011. Al Asir Channel Urdu Islamic Websites Tarjuman Maslak e Deoband - All Rights Reserved
Template Created by piscean Solutions Published by AL Asir Channel
Proudly powered by AL Asir Channel