Home » » Aalla Hazrat Ka BachPan Ka Taqwa

Aalla Hazrat Ka BachPan Ka Taqwa


بسم اللہ الرحمن الرحيم
آپ کے بچپن ہر طرح کی آلودگيوں سے پاک تھا ابھی 6,5 سال کی عمر تھی ایک لمبا کرتہ زيب تن کئے گھر سے باہر تشريف لائے وہاں سے چند بازاری عورتوں کا گزر ہوا آپ نے انھيں ديکھ کر کرتے کے دامن سے منہ چھپا لیا ان میں سے ایک عورت نے طنزکے طور پر کہا واہ صاحب زادے منہ چھپا لیا اور ستر کھول دیا آپ نے برجستہ فرمایا نظر بہکتی ہے تو دل بہکتا ہے دل بہکتا ہے تو ستر بہکتا ہے۔
حیات اعلی حضرت ص10 مطبوعہ دعوت اسلامی
پہلے تو قارئین کرام غور فرمائیں کہ اعلی حضرت کس قسم کے محلے میں رہتے تھے کہ وہاں رنڈيوں کا یوں سر عام آنا جانا تھا کیا کوئی شريف افراد کا محلہ اس بات کو گوارا کرتا ہے کہ ان کے محلوں میں اس قسم کی عورتيں ہوں اور وہ ان بچوں سے اس طرح کی باتيں کریں پھر اعلی حضرت کو تو ديکھئے کہ ۶ ،۷ سال کا بچہ تو اور وہ اس طرح ستر کے بارے میں جانتا ہے اور پھر اعلی حضرت کی نظر7,6 میں ہی بہکنے لگ گئی۔۔۔اور پھر ان کی بے وقوفی تو ملاحظہ فرمائے کہ ستر تو عورتوں کو دکھانا گوارا کرلیا مگر آنکھيں چھپالی نیز ان کی تربيت تو ديکھئے کہ گھر سے باہر بغير شلوار کے گھوم رہے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اعلی حضرت کی ساری زندگی رنڈيوں سے تعلقات رہے ۔۔ملاحظہ ہو اس پر مزید دلائل۔۔
اعلی حضرت رنڈيوں کے ساتھ ديوالی مناتے ہوئے
اسی حيات اعلی حضرت میں مولوی احمد رضاخان کی کرامات میں ایک واقعہ درج ہیں ذرا گور فرمائیں:
ہنود کے تيوہار ہولی کا زمانہ تھا ۔ایک ہندوانی بازار طوائف نے اپنے بالا خانہ سے حضرت پر رنگ چھوڑ ديا یہ کیفیت شارع عام پر ایک جوشيلے نوجوان نے ديکھتے ہی بالا خانہ پر جاکر تشدد کرنا چاہا ،مگر حضور نے اس کو روک ديا اور فرمایا بھائی کیوں اس پر تشدد کرتے ہو اس نے مجھ پر رنگ ڈالا ہے خدا سے رنگ دے گا۔
قارئین کرام غور فرمائیں پہلے تو بریلوی اس بات کی وضاحت کردیں کہ آخر مولوی احمد رضاخان کی رہائیش کس محلہ میں تھی صاف بات ہے کہ جب بچپن میں بھی رنڈيوں سے ملاقات اور جوانی میں بھی رنڈيوں کے بالاخانہ تو آخر اس سے بڑا اور ثبوت کیا ہوگا کہ اعلی حضرت کی رہائش ایسے محلے میں تھی جہاں رنڈيوں کا عام آنا جانا تھا ۔پھر اس کی بے تکلفی تو ملاحظہ فرمائیں کہ کس طرح اعلی حضرت پر رنگ پھینک رہی ہے الحمد اللہ ہم مولوی نہیں بس شريعت پر تھوڑے بہت چلتے ہیں اسی بنا پرآج تک کسی عورت کو نظر اٹھا کر ديکھنے کی ہمت نہ ہوئی کہ یہ مولوی ٹائپ کا ہے اس کو کچھ نہ کہو۔۔۔۔مگر اعلی حضرت پر کس طرح بالاخانوں سے رنگ پھینکا جارہا ہے ۔۔۔گويا اعلی حضرت کی رہائیش رنڈيوں کے بالاخانوں سے بالکل ملی ہوئی تھی۔۔۔یہی وجہ ہے کہ اعلی حضرت نے ہرمقا م پر آگے جاکر ان کی حمايت میں باقاعدہ فتوے دئے۔
اعلی حضرت احمد رضا خان بریلوی کے رنڈيوں سے تعلقات
ایک مقام پر اعلی حضرت سے رنڈيوں کے ہاں محفل میلاد کرنے اور ان کی شيرینی کے بارے میں پوچھا گيا آپ نے جو کچھ ارشاد فرمایا اسے مع سوال و جواب کے آپ ہی کی زبانی سنئے۔۔۔(سوال) طوائف جن کی آمدنی صرف حرام پر اس کے یہاں میلاد شريف پڑھنا اور اس کی اس حرام آمدنی کی منگائی ہوئی شیرینی پر فاتحہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟(احکام شريعت ص 164 حصہ دوم)۔
اس کا صاف اور اسلامی جواب تو یہ ہونا چاہئے تھا کہ رنڈيوں کے ہاں میلاد پڑھنے کیلئے جانا بجائے ثواب کے گناہ اور باعث تہمت ہے اور ان کی حرام آمدنی سے منگائی گئی شیرینی بھی حرام ہے۔مگر ایسا جواب دينے پر شائد طوائف کی ناراضگی کا خطرہ تھا اس لئے جواب میں آپ یوں رقمطراز ہے۔۔
اس مال کی شیرینی پر فاتحہ کرنا حرام ہے مگر جب اس نے مال بدل کر مجلس کی ہو اور یہ لوگ جب کوئی کارخیر کرنا چاہتے ہیں تو ايسا ہی کرتے ہیں اور اس کیلئے شہادت کی حاجت نہیں اگر وہ کہے کے میں نے قرض لیکر یہ مجلس کی ہے اور وہ قرض اپنے حرام مال سے ادا کیا ہے تو اس کا قول مقبول ہوگا بلکہ شيرینی اگر اپنے مال حرام سے ہی خریدی ہے اور خريدنے پر اس پر عقد و نقد جمع نہ ہوئی يعنی حرام روپیہ دکھا کر اس کے بدلے خريد کر وہی حرام روپیہ ديا ۔۔الخ (ایضا )
یہ فتوی طوائف کے حرام مال سے خريدی ہوئی مٹھائی اور شيرینی کے حلال ہونے پر اتنا واضح ہے کہ اس میں مزید کسی تبصرے کی ضرورت نہیں البتہ اس فتوے کی وضاحت فرماتے ہوئے اعلی حضرت بریلوی نے دو باتيں ایسی بيان فرمائی جو وضاحت طلب ہیں پہلی یہ کہ جب یہ لوگ کوئی کار خیر کرتے ہیں تو ايسا ہی کرے ہیں دوسرا اس کیلئے کسی شہادت کی ضرورت نہیں۔
اب بریلویوں سے مندرجہ ذیل سوال کے جواب طلب کرنا چاہتا ہوں:
(1) اعلی حضرت کو یہ کیسے معلوم ہوا کہ جب طوائف کوئی کار خیر کرنا چاہتی ہے تو پہلے اپنے روپوں کسی اور کے روپوں سے تبدیل کرتی ہے اور پھر ان تبدیل شدہ روپوں کی شيرینی منگوا کر اس پر فاتحہ پڑھنے کیلئے کسی بریلوی مولوی کی خدمات حاصل کی جاتی ہے۔۔؟؟
ظاہر ہے اتنے وثوق سے وہی آدمی کہہ سکتا ہے جس کا ذاتی تجربہ ہو اور جو ان کے جملہ حرکات و سکنات کو بہت قريب سے ديکھ چکا ہو آخر وہ کون سے ذرائع تھے جن سے احمد رضاخان صاحب کو معلوم ہوا کہ رنڈياں فاتحہ شيرينی کو اس حيلے سے حرام کو حلال سے خريد کر تبدیل کرتی ہیں کوئی بھی ذی شعور یہ نتیجہ اخذ کرنے میں باک محسوس نہیں کرےگا کہ اعلی حضرت کے ان سے خصوصی تعلقات تھے جن کی وجہ سے ان کو اندرون خانہ سب حالات معلوم تھے۔
(2) احمد رضاخان کے زير بحث فتوی سے معلوم ہوا کہ دنيا میں کوئی چیز بھی حرام اور ناجائزنہیں اگر کسی کے پاس کوئی حرام چيز ہے تو دوسرے آدمی سے تبدیل کرکے اس سے حلال کرسکتا ہے۔
بہر حال اس پر مزید تبصرہ میں کسی اور وقت میں کروں گا ابھی وقت کی کمی ہے البتہ کیا کوئی بریلوی ملاں مجھے بتا سکتا ہے کہ وہ اب تک اعلی حضرت کے اس فتوے پر کتنی بار عمل کرچکا ہے اور کتنی بار محفل میلاد منانے رنڈی کے ہاں گيا۔۔کیا وہ بتاسکتے ہیں کہ وہ اب تک رنڈيوں کی شیرینی کتنی بار مال مفت سمجھ کر ہضم کرچکے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟
اعلی حضرت احمد رضا خان بریلوی کے جوانی کا تقوی
میں نے خود دیکھا کہ گاؤں میں ایک لڑکی18یا20 سال کی تھی ماں اس کی ضعيفہ تھی اس کا دودھ اس وقت تک نہ چھڑاياتھا ماں ہر چند منع کرتی وہ زور آور تھی پچھاڑديتی اور سينے پر چڑھ کر دودھ پینے لگتی﴾ملفوظات ص346 حصہ سوم ﴿
اب وضاحت طلب امر یہ ہے کہ اٹھارہ بيس سال کی عمر کی لڑکی دودھ پینے کیسی لگ گئی وہ تو خود ماں بن جاتی ہے اور دودھ بھی کسی صحت مند نوجوان کا نہیں بڑھيا کا ۔۔پھر اعلی حضرت کے ان کے ساتھ کیا تعلقات تھے جو وہ ان ”میں نے خود ديکھا“ کی طرح ديکھ رہے تھے۔۔کیا کسی عورت کے پستان کو ديکھنا جائز ہے ۔۔اور پھر وہ عورتيں اس پر شرمندہ کیوں نہیں ہورہی تھيں کہ اعلی حضرت ہمیں اتنے مزے لے لے کر ديکھ رہے ہیں ۔۔اگر اعلی حضرت جالیوں کی اوٹھ سے یا کھڑکی سے ديکھ رہے تھے تو اس تاڑنے پر اعلی حضرت کو حياءنہیں آرہی تھی۔۔۔
نماز میں احتلام اور منی باہر نہ آئی
نماز میں احتلام ہوا اور منی باہر نہ آئی کہ نما ز قائم کرلی اس کے بعد اتری تو غسل واجب ہوگا مگر نماز ہوگئی (فتاوی رضویہ جلد اول ص472 )
بریلوی مذہب والوں سے پوچھتا ہوں کہ اعلی حضرت بریلوی تو اب اس دنيا میں موجود نہیں اس لئے آپ لوگوں سے ہی درخواست کرتا ہوں کہ نماز میں احتلام کی صورت کیا ہوگی۔۔؟؟؟نماز میں تو آدمی بڑے خشوع و خضو ع سے دربار خداوندی میں حاضر ہوتا ہے اور حديث شريف مین ہے ان تعبد اللہ کانک تراہ فان لم تکن فانہ یراک اللہ کی عبادت اس طرح کر گويا تم اس کو ديکھ رہا ہے اور اگر ايسا نہیں تو وہ تو تجھے ديکھ رہا ہے۔
اگر نماز اس طرح پڑھی جائے تو نماز میں احتلام چہ معنی وارد مگر غالب گمان یہ ہے کہ بریلوی مذہب میں نماز کے بارے میں يوں ہدايت ہو کہ تم نماز ایسے پڑھا کرو کہ گويا تم عورتوں کو ديکھ رہے ہو اور اگر تم نہیں ديکھتے تو پھر اس کا تصور کرلیا کرو ۔۔بس اس لئے احتلام کی صورت بيان کردی کہ اگر کوئی بریلوی اس منظر کو برداشت نہ کرسکا اور نماز ہی میں فارغ ہوگيا تو کوئی مسئلہ نہیں نماز ہوجاتی ہے البتہ غسل بعد میں کرلے۔
پھر اعلی حضرت کا فقیہانہ ذہن ملاحظہ ہو” منی باہر نہ آئی کہ نماز قائم کرلی“يعنی بریلویوں کی نماز کی رفتار منی کی رفتار سے بھی تيز ہے افسوس اس عبارت کو لکھتے ہوئے بار بار شرم سے ڈوب مرجانے کو دل کررہا ہے ۔۔۔امید ہے کہ کوئی بریلوی احتلام کی اس صورت کو کافی شرح و بسط کے ساتھ فقیرکو سمجھائیں گے۔
احمد رضا خان بریلوی کے نزديک آلہ تناسل چھونے کا ثواب
زن و شوہر کا باہم ایک دوسرے کو چھونا حيات میں مطلقا جازء ہے حتی کے فرج و ذکر کو بنيت صالحہ (چھونا يا ٹٹولنا)موجب اجر و ثواب ہے (احکام شريعت حصہ دوم ص 254)
کتب فقہی میں تو ایسی کوئی تصريح نہیں کہ ذکر و فرج کو بنيت صالحہ چھونا باعث اجر و ثوا ب ہے۔ برائے کرم اگر کوئی بریلوی اس مسئلہ کے متعلق مندرجہ ذیل سوالوں کے جوابات دے ديں تو بڑی مہربانی ہوگی۔۔
(۱) فرج و ذکر کو چھونے ٹٹولنے یعنی اس سے کھیلنے سے بریلوی حضرات کی نيت صالحہ کیسے ہوتی ہے؟
(۲) اس کو چھونے پر جو ثواب و اجر ملتا ہے اسے کسی دوسرے کو ایصال ثواب کرنے کاکیا طریقہ ہے ۔
(۳) اس مشغلے محبوبہ پر اب تک کتنے بریلوی عمل کررہے ہیں ہے کوئی جو مجھے بتائے کہ اس کا اجر و ثواب مولوی احمد رضاخان مفتی احمد يار گجراتی یا نعیم الدين مراد آبادی کو کیا جاسکتا ہے یا نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟
اعلی حضرت احمد رضا خان بریلوی کی گندی شاعری
ام المومنین حضرت امی عائشہ صدیقہ بنت صدیق رضی اﷲ عنہا کے بارے میں
تنگ و چست ان کا لباس اور وہ جوبن کا ابھار
مسکی جاتی ہے قبا سر سے کمر تک لے کر
یہ پھٹا پڑتا ہے جو بن مرے دل کی صورت
کہ ہوئے جاتے ہیں جامہ سے بروں سےنہ و بر
(حدائق بخشش ج3 ص 37)
مطلب یہ کہ ان کا ايسا تنگ اور چست لباس اور پھر اس پر متزاد سےنہ کا ابھار ایسا تھا کہ پیراہن سر سے کمر تک پھٹنے کے قريب ہے ان کی جوانی کا ابھار مرے دل میں مانند پھٹتا جارہا ہے اور سينہ سے جسم لباس تنگی کہ وجہ سے کپڑوں سے باہر ہوتے جارہے ہیں۔۔۔
لاحول ولاقوة الا باللہ میں اس وقت اس بات سے بحث نہیں کروں گا کہ یہ فحش شعر مولوی احمد رضاخان نے کس کی شان میں کہے لیکن سوچئے کیا اس طرح چسکے لے لے کر عورتوں کو بيان کرنا کوئی شريف آدمی اس طرح کی شاعری کا سوچ بھی سکتا ہے ہو کوئی بریلوی جو ان اشعار کا مطلب اپنی ماں بہن سے پوچھے۔
خاکپائے اہلسنت والجماعت
اس میں مزید اضافات بھی کئے جاسکتے ہیں مجھے کسی کی ذاتی زندگی پر بات کرنے کا کوئی شوق نہیں مگر اعلی حضرت اعلی سیرت نامی ایک کتاب نظر سے گزری جس میں ایک بریلوی کہتا ہے کہ اس زمانہ میں جو اعلی حضرت سے محبت رکھے تو وہ مومن ہے اور جو بغض تو وہ منافق لہٰذا اعلی حضرت کی اصل مکروہ چہرہ آپ کے سامنے پیش کرنے پر مجبور ہوئے ۔
Share this article :

Post a comment

 

Copyright © 2011. Al Asir Channel Urdu Islamic Websites Tarjuman Maslak e Deoband - All Rights Reserved
Template Created by piscean Solutions Published by AL Asir Channel
Proudly powered by AL Asir Channel